The UN must choose. The illegitimate military junta or the democratic National Unity Government? There is no choice. Only justice. Recognize NUG now!

The UN must choose. The illegitimate military junta or the democratic National Unity Government? There is no choice. Only justice. Recognize NUG now!

The United Nations (UN) designated September 15 as the International Day of Democracy. On this day we call for the restoration of democracy and democratic rights in Myanmar.

One year ago there was a campaign on September 15, 2021, calling on the UN to recognize the democratic National Unity Government (NUG) as the legitimate government of the people of Myanmar and to reject the illegal, bloody military State Administration Council (SAC). This call came just before an important decision of the 75th Session of the United Nations General Assembly on whether to recognize NUG or the SAC.

Despite the tremendous support of several governments around the world, the UN General Assembly failed to make a clear choice. In response, on October 26, 2021, the IUF Asia/Pacific Regional Committee expressed concern that 75th Session of the UN General Assembly had not taken a clear decision on the rejection of the military State Administration Council (SAC) and recognition of the democratic NUG, warning that:

further delay in the rejection of the SAC and recognition of the NUG will embolden the military regime and increase its military attacks on civilian populations.

Tragically this is exactly what happened. An emboldened SAC military junta escalated its brutal war on the people, with military attacks on villages and aerial bombings. Thousands more human rights defenders and trade unionists were arrested, hundreds more were sentenced to prison terms. And on July 26, 2022, the SAC military junta executed four political prisoners.

One year later, on September 15, 2022, the international community again mobilizes to call on the UN General Assembly to recognize NUG and reject SAC.

Only total political rejection of the SAC as an illegitimate, criminal military regime and full support for NUG can help end this reign of terror and provide much needed support for the courageous struggle of all the peoples of Myanmar to restore democracy.

What choice is there now for the UN? The SAC military junta or the democratic NUG? There is no choice. Only justice.

SIGN THE PETITION Myanmar for U Kyaw Moe Tun & U Kyaw Moe Tun for Myanmar

Recognize NUG now!

Download the Myanmar democracy campaign poster PDF in English 

یہ حقوق کی عدم موجودگی ہے جو اس موسمیاتی بحران کو  لوگوں کے لیے آب و ہوا کی تباہی  میں تبدیل کرتی ہے۔

یہ حقوق کی عدم موجودگی ہے جو اس موسمیاتی بحران کو لوگوں کے لیے آب و ہوا کی تباہی میں تبدیل کرتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم تباہ کن موسمیاتی تبدیلی کے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر میں گرمی کی لہریں، خشک سالی، بش فائر اور سیلاب کی شدت اور تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگست میں پاکستان بھر میں بڑے پیمانے پر سیلاب نے 30 ملین افراد کو بری طرح متاثر کیا، جن میں 1,000 سے زیادہ اموات کی اطلاع ملی۔حکومتی وزراء اور ارکان پارلیمنٹ نے سیلاب کو “موسمیاتی تباہی” قرار دیا۔ واضح طور پر حکومتوں کی طرف سے دہائیوں کے انکار، تاخیر اور ابہام کے بعد سرکاری سطح پہ ، اس سیلاب کی تباہی کی وجہ ” انسانوں کی وجہ سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلی ” کو تسلیم کیا جانا ،اہم پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے۔تاہم، شدید موسمی واقعات کی بڑھتی ہوئی شدت اور تعداد کو تباہ کن موسمیاتی تبدیلی [موسمیاتی بحران] کے ثبوت کے طور پر تسلیم کرنے، اور موسمیاتی تباہی کا اعلان کرنے میں بہت فرق ہے ۔
30 ملین سے زیادہ لوگ شدید سیلاب سے متاثر ہوئے اور لاکھوں لوگ بے گھر یا در بدر ہوئے ہیں جس کی وجہ اس بحران کا سامنا کرنے کے لیے ضروری عوامی خدمات اور سہولیات، بنیادی ڈھانچہ، رہائش اور سماجی تحفظ فراہم کرنے میں حکومت کی ناکامی ہے۔ یہ حقیقتا تحفظ کی عدم موجودگی ہے۔
اور عمومی سماجی تحفظ کی کمی ہے ۔ خاص طور پر خواتین، غیر رسمی شعبے کے کارکنوں، اور تارکین وطن کارکنوں کے لیے – جس نے اس سیلاب کو ایک المیہ میں تبدیل کردیا ہے ۔
دیہی برادریوں کے خلاف امتیاز، پسماندگی اور عدم توجہ ان ممالک میں عام ہے جہاں حکومتوں نے صحت کی دیکھ بھال، پانی کی سہولیات، اور چھوٹے ماہی گیروں اور پسماندہ کسانوں کی مدد کے لیے درکار عوامی انفراسٹرکچر پر عوامی اخراجات میں کمی کی ہے۔ان کمیونٹیز کے اندر خواتین اور مقامی لوگوں کی پسماندگی اور بھی زیادہ ہے۔ جو لوگ منظم طریقے سے حقوق سے محروم ہیں اور پسماندہ ہیں وہ انتہائی موسمی واقعات کے بدترین اثرات سے دو چار ہوتے ہیں۔ جو لوگ مناسب رہائش، صحت کی دیکھ بھال، پانی اور صفائی ستھرائی، اور غذائیت تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے پہلے سے ہی خراب صحت کا شکار ہیں، ان کے لیے انتہائی موسمی واقعات کا حملہ تباہ کن ثابت ہو سکتاہے۔ یہ حقوق کی عدم موجودگی ہے جو اس موسمیاتی بحران کو دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں کے لیے آب و ہوا کی تباہی بناتی ہے۔
تباہ کن موسمیاتی تبدیلیوں سے بچنے کے لیے فوسل فیول انڈسٹری کی طرف سے کاربن کے اخراج کو کم کرنے کی فوری ضرورت کی نشاندہی چار دہائیوں سے قبل کی گئی تھی۔ 1977 میں امریکی صدر جمی کارٹر کے چیف سائنسی مشیر فرینک پریس کے میمو کا عنوان اس سے زیادہ واضح نہیں ہو سکتا: “فوسیل CO2 کا اخراج اور ایک تباہ کن موسمیاتی تبدیلی کا امکان۔”]لیکن کاربن کے اخراج کو کم کرنے اور فوسل فیول ایندھن کی صنعت میں راج کرنے کی یہ کال تھیچر اور ریگن کے سرکاری اخراجات اور سماجی انفراسٹرکچر، عوامی اشیا اور خدمات، اور – سب سے اہم – ہماری اجتماعی سماجی اقدار پر نو لبرل حملے کی آمد کے ساتھ موافق تھی۔ جس کو دنیا بھر میں اپنایا گیا – بشمول متعدد سماجی جمہوری اور مزدور حکومتوں کے ذریعہ – نو لبرل ازم نے گزشتہ 45 سالوں میں نہ صرف حکومتوں کی کرہ ارض اور صحت عامہ کی حفاظت کی صلاحیت کو کمزور کیا ہے۔ اس نے منظم طریقے سے اس قسم کے عوامی سماجی انفراسٹرکچر کے ہمارے حقوق کو ختم کر دیا ہے جس کی ہمیں اب اشد ضرورت ہے۔ ہسپتالوں، رہائش، تعلیم، بجلی اور پانی کی سہولیات کی نجکاری کی گئی اور تقریباً ہر چیز منافع کے لیے خریدی اور بیچی جانے والی شے بن گئی۔ اس میں پینے کے صاف پانی تک رسائی شامل ہے – جوایک بنیادی انسانی حق ہے ۔

گرمی کی لہروں، جنگل کی آگ، سیلاب، خشک سالی اور دیگر شدید موسمی واقعات کی بڑھتی ہوئی شدت اور تعداد نے ہمارے بنیادی انسانی حقوق اور اجتماعی سماجی اقدار جو ان حقوق کو معنی دیتے ہیں کوبحال کرنے کے مطالبات کو نئی جان دی ہے ۔ مفت عوامی اشیا اور خدمات، افادیت، بنیادی ڈھانچے تک رسائی – عوامی طور پر مالی اعانت سے چلنے والا حقیقی اور سماجی تحفظ – وہ ہے جس کی دیہی اور زرعی برادریوں کو فوری ضرورت ہے۔ یہ خاص طور پر خواتین، بچوں، تارکین وطن اور مقامی لوگوں کے لیے ہے۔
یہ سب زیادہ اہم ہے کیونکہ یہی پسماندہ اور نظر انداز دیہی اور زرعی برادریاں دنیا کو کھانا کھلانے کے زمہ دار ہیں۔ عوامی طور پر مالی اور سماجی تحفظ اور حکومتوں کے تعاون کے بغیر، انسانوں کی طرف سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے بائث ہونے والے شدید موسمی واقعات خوراک کے مسلسل بحران پیدا کریں گے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر خوراک کے عدم تحفظ میں اضافہ ہوگا۔
بنیادی طور پر یہ ماحولیاتی بحران کے بارے میں ہمارے ردعمل کے مرکز میں سماجی انصاف کو رکھنے اور پوری دنیا کی صحت کا دفاع کرنے کے بارے میں ہے۔اسے وسیع پیمانے پر موسمیاتی انصاف کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ ہمیں 2008 میں صحت کے سماجی تعین کرنے والے ڈبلیو ایچ او کمیشن کی حتمی بنیادی طور پر یہ ماحولیاتی بحران کے بارے میں ہمارے ردعمل کے مرکز میں سماجی انصاف کو رکھنے اور پوری دنیا کی صحت کا دفاع کرنے کے بارے میں ہے۔اسے وسیع پیمانے پر موسمیاتی انصاف کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ ہمیں 2008 میں صحت کے سماجی تعین کرنے والے ڈبلیو ایچ او کمیشن کی حتمی رپورٹ کی ابتدائی سطر کو یاد کرنا چاہئے: “سماجی انصاف زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔”اس میں کوئی شک نہیں ، اس موسمیاتی بحران میں، موسمیاتی انصاف زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔

اس موسمیاتی بحران میں انسانی حقوق کی اہمیت کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی انسانی حقوق اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق قرارداد میں تسلیم کیا گیا ہے [14 جولائی 2021]:
موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے خطرناک حالات میں لوگوں کو درپیش خاص چیلنجوں پر زور دینا، بشمول بیماریوں کے لیے ان کی بڑھتی ہوئی حساسیت، گرمی کا دباؤ، پانی کی کمی، نقل و حرکت میں کمی، سماجی امتیاز اور جسمانی، جذباتی اور مالی لچک میں کمی، نیز ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو ان کی مخصوص ضروریات کو پورا کرتاہو اور ہنگامی حالات اور انخلاء، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہنگامی ردعمل، اور صحت کی دیکھ بھال کی خدمات، جیسا کہ مناسب ہو، ڈیزاسٹر رسپانس پلاننگ میں ان کی شرکت کو یقینی بنانا،
مزید ریاستوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کمزور حالات میں لوگوں کے انسانی حقوق کو بہتر طور پر فروغ دیں اور ان کی روزی روٹی، خوراک اور غذائیت، پینے کے صاف پانی اور صفائی، سماجی تحفظ، صحت کی دیکھ بھال کی خدمات اور ادویات، تعلیم و تربیت، مناسب رہائش صاف توانائی، سائنس اور ٹیکنالوجی اور مناسب کام تک رسائی کو یقینی بنائیں ۔ اور یقینی بنائیں کہ خدمات کو ہنگامی اور انسانی حالات کے مطابق ڈھال لیا جا سکتا ہے۔

Fishworkers in the Philippines demand recognition of their constitutional right to organize, denounce fishing industry’s fraudulent voluntary code

Fishworkers in the Philippines demand recognition of their constitutional right to organize, denounce fishing industry’s fraudulent voluntary code

As a counter-summit to the official Tuna Congress in General Santos City in the Philippines, SENTRO held its 4th National Fishworkers Congress September 2-3, 2022. Hundreds of fisherfolks, commercial fishers and canning factory workers attending the Fishworkers Congress angrily denounced the new Voluntary Code of Good Practices signed by the SOCSKSARGEN Federation of Fishing and Allied Industries (SAFFAI) Tripartite Council during the official Tuna Festival.

“The so-called Voluntary Code, is nothing but a PR exercise that SAFFAI is using to whitewash its horrendous record in wantonly violating the rights and welfare of its workers”, said Herbert Demos, Regional Secretary of SENTRO SOCSARGEN.

“Its promises to uphold safely and health, provide education and skills upgrading, utilize alternative dispute mechanisms, respect labor standards and use retrenchments as a last resort will have no chance of being enforced so long as the industry continues to ignore workers’ right to freedom of association.”

The fraudulent Voluntary Code claims to be tripartite but has no legitimate labour representation. It is designed to avoid the legal obligations of DO-156

The Voluntary Code was signed without properly consulting the labor sector. The labor representatives who signed the document were members of the management and their allies.

SENTRO has long been criticizing SAFFAI for actively blocking the enforcement of Department Order No.156 Rules and Regulations governing the Working and Living Conditions of Fishers on board Fishing Vessels engaged in Commercial Fishing Operation which was issued in 2016.

“8 years after the issuance of DO-156, none of our commercial fishers have enjoyed its guarantee that they get at least the minimum wage on top of their rightful share of the catch and all the labor standards are respected.”

More importantly, workers in the canning factories and those onboard commercial fishing vessels have yet to access their full trade union rights. The extensive use of contractualization, the denial of employee-employer relations and the militant anti-union attitude of employers are the key factors preventing unionization.

“We call on all those government representatives who signed the Voluntary Code to withdraw their imprimatur unless SAFFAI agrees to subject the same to meaningful consultation and takes into consideration the respect for workers’ constitutional right to self-organize, collectively bargain and to strike.”

It is the absence of social justice that turns the climate crisis into a climate catastrophe

It is the absence of social justice that turns the climate crisis into a climate catastrophe

There is no doubt that we are entering an era of catastrophic climate change. Heat waves, drought, bushfires and flooding are increasing in intensity and frequency across the globe. The massive flooding across Pakistan in August severely affected 30 million people, with over 1,000 reported deaths. Government ministers and parliamentarians described the flooding as a “climate catastrophe”. Clearly, any official recognition of this flood disaster as having its origins in human-induced climate change represents significant progress after decades of denial, delay and obfuscation by governments. However, there is an important difference between recognizing that the increased intensity and frequency of extreme weather events as proof of catastrophic climate change [the climate crisis], and declaring a climate catastrophe.

Over 30 million people were affected by severe flooding and millions remain displaced or homeless because of decades of government failure to provide the necessary public services and utilities, infrastructure, housing, and social protection needed to face this crisis. It is the absence of publicly financed physical protection (protected forests and mangroves, land and soil conservation, dykes, levees, canals, public housing and affordable housing, access to potable drinking water) and the lack of of universal social protection – especially for women, informal sector workers, and migrant workers – that has allowed this flooding to become the tragedy that it is.

The exclusion, marginalization and neglect of rural communities is common in countries where governments have cut public spending on health care, water utilities, and the public infrastructure needed to support small scale and marginal farmers and fisherfolk. Within these communities there is even greater marginalization of women and indigenous/first nation peoples. Those who are systematically denied rights and marginalized experience the worst effects of extreme weather events. Already suffering from poor health due to the lack of access to adequate housing, health care, water and sanitation, and nutrition [all of which are universal human rights], the onslaught of extreme weather events is devastating. It is the absence of rights that makes this climate crisis a climate catastrophe for hundreds of millions of people around the world.

The urgent need to cut carbon emissions by the fossil fuel industry to avert catastrophic climate change was understood more than four decades ago. [The title of the memo of US President Jimmy Carter’s chief scientific advisor, Frank Press, in 1977 could not be clearer: “Release of Fossil CO2 and the Possibility of a Catastrophic Climate Change.”] But this call to cut carbon emissions and reign in the fossil fuel industry coincided with the advent of Thatcher and Reagan’s neoliberal attack on government spending and social infrastructure, public goods and services, and – most important of all – our collective social values. Replicated around the world – including by several social democratic and labour governments – neoliberalism has over the last 45 years not only undermined the capacity of governments to protect the planet and public health. It has systematically dismantled our rights to the kinds of public social infrastructure we so desperately need now. Hospitals, housing, education, electricity and water utilities were privatized as just about everything became a commodity bought and sold for profit. This includes access to potable drinking water – a fundamental human right.

The increased intensity and frequency of heat waves, wildfires, flooding, drought and other extreme weather events have renewed calls to restore our fundamental human rights and the collective social values that give meaning to those rights. Access to free public goods and services, utilities, infrastructure – publicly financed physical and social protection – is what rural and agricultural communities urgently need. This is especially so for women, children, migrants, and indigenous/first nation peoples.

This is all the more important because these very same marginalized and neglected rural and agricultural communities must feed the world. Without publicly financed physical and social protection and the support of governments, the extreme weather events driven by human-induced climate change will generate continuous food crises, leading to even greater global food insecurity.

Fundamentally this is about placing social justice at the center of our response to the climate crisis and defending planetary health. This is broadly understood as climate justice. We should recall the opening line of the final report of the WHO Commission on Social Determinants of Health in 2008: “Social justice is a matter of life and death.” Indeed, in this climate crisis, climate justice is a matter of life and death.

Hidayat Greenfield, Regional Secretary

The IUF-affiliated Sindh Women Workers Council SNPC provides support to women who lost their homes and whose fields are flooded. This reflects the collective social values and action of solidarity, compassion and caring we must restore.

The importance of human rights in this climate crisis is recognized in the UN Human Rights Council’s resolution on Human rights and climate change [July 14, 2021]:

Stressing the particular challenges faced by people in vulnerable situations posed by climate change, including their increased susceptibility to diseases, heat stress, water scarcity, reduced mobility, social exclusion and reduced physical, emotional and financial resilience, as well as the need for measures to address their specific needs and to ensure their participation in disaster response planning for emergency situations and evacuations, humanitarian emergency response, and health-care services, as appropriate,

 

Further calls upon States to better promote the human rights of people in vulnerable situations and their access to livelihoods, food and nutrition, safe drinking water and sanitation, social protection, health-care services and medicines, education and training, adequate housing and decent work, clean energy, science and technology, and ensure services can be adapted to emergency and humanitarian contexts;

기후 변화와 농업에서 아동 노동 기온 상승, 열 스트레스, 아동 건강에 대한 영향이 안전한 혹은 위험한 일을 어떻게 재정의 하는가?

기후 변화와 농업에서 아동 노동 기온 상승, 열 스트레스, 아동 건강에 대한 영향이 안전한 혹은 위험한 일을 어떻게 재정의 하는가?

무하마드 히다야트 그린필드

IUF 아시아/ 태평양 지역 사무총장

2022년 3월 28일

PDF

  1. 기후 변화와 아동 노동 관련 짓기

아동 노동 근절을 위한 5 글로벌 회의가 남아공 더반에서 2022년 5월 15-20일에 개최되었다. 이 회의는 2025년까지 모든 아동 노동 근절을 포함하여 SDG 목표 8.7을 달성하기 위해 전 세계가 다시 한번 고삐를 바로 잡아야 하는 중요한 내용을 다루었다. ILO에 따르면, 사회적 보호 시스템과 유연한 고용 정책의 부재 속에서 몇몇 국가에서 코로나 팬데믹으로 인해 아동 노동이 상당히 증가하는 모습과 더불어 최근 몇 년 동안 이루었던 성과를 훼손하는 모습이 나타났다. (전쟁, 분쟁, 이주로 인해 더욱 악화되는) 만연하는 경제, 사회 위기와 세계 식량 위기는 더 심각한 도전이 되고 있다.

이러한 도전은 아동 노동의 70%가 발생하는 농업 분야에서 더욱 심각하다. 2021년 11월 2-3일 개최된 FAO(식량농업기구) 글로벌 솔류션 포럼 농업에서 아동 노동 근절을 위한 공동 행동에서 논의된 구체적인 경험, 프로그램, 정책적 행동은 다차원적인, 다분야적인 접근의 필요성이 부각되었으며, SDG 목표 8.7하에 우리의 의지를 다지기 위한 긴급한 행동을 위한 요청이 강조되었다.

아동 노동 근절에 관한 5차 글로벌 회의를 앞둔 이러한 행동 요청은 2021년 11월 COP26에서 기후변화에 관한 긴급 요청 및 포괄적인 (그리고 충격적인) 기후 변화에 관한 UN 정부간 패널(IPCC)의 6차 평가 보고서를 위한 워킹 그룹[1]  보고서와 내용을 함께 하고 있다.

또한 중요한 것은 UN 아동권리위원회가 2022년 말까지 기후 변화에 특별한 초점을 두고 아동 권리와 환경에 관한 일반 논평 26을 마련하기 위해 2021년 12월 심리 과정을 시작하였다는 점을 인지하는 것이며, 이 일반 논평은 기후 변화가 아동과 아동의 권리에 미치는 영향에 관한 관심을 불러일으키고 있다.[2]

이렇게 복합적인 두 가지 위기에 대응할 필요성을 인정하면서, ILO는 아동 노동 근절을 위한 5 글로벌 회의 셋째날 (5/17) 기후 변화와 기후 위기에 관한 주제별 패널을 포함시켰다.

아동 노동과 기후 변화 두 가지 모두 복잡하고 다차원적인 문제라는 사실은 잘 알려져 있다. 그러나 이러한 복잡성이 행동을 취하지 않는 것을 정당화 시킬 수 없다는 점을 마찬가지로 우리는 잘 알고 있다. 포괄적인, 다분야적인 전략이 필요하고, 아동 노동 근절을 위한 5 글로벌 회의는 이러한 연관 관계를 잘 이해하고 이러한 내용을 기존의 정책과 프로그램에 통합할 수 있는 기회를 제공하고 있다.

눈에 띄는 점은, IPCC 6차 평가 워킹 그룹의 방대한 보고서에서 기후 변화가 아동의 건강과 웰빙에 미치는 영향을 다루고 있는 한편, 아동 노동에 대한 참고 자료는 없지만 몇몇 사례를 통해 아동이 기후 변화의 영향을 가장 심하게 받는 그룹 중 하나라고 규정하고 있다는 점이다.

IPCC 6차 평가 워킹 그룹 II의 보고서인, 기후 변화 2022: 영향, 적응, 취약성은 기후 변화가 인간의 건강과 웰빙에 미치는 영향 및 가난, 취약성, 삶, 지속가능한 개발과 기후 변화의 상호 작용의 관계를 방대한 증거를 통해 제시하고 있다[3]. 아동이 취약하다는 것이 명확한 논제인 것처럼, 기후 변화가 아동의 건강, 정신 건강, 그리고 식품 및 영양에 대한 접근에도 영향을 미친다는 점도 분명한 내용이다. 또한 식량 시스템과 농업에 있어 기후 변화의 영향에 관한 세밀한 논의가 있었다. 2022년 2월 27일, 이 보고서는 IPCC 195개 회원국의 승인을 받았으며, 이는 정책적인 행동을 추진할 수 있는 분명한 기회임을 시사하는 것이다. 이러한 맥락에서 더욱 중요한 점은 이러한 논의 – 그리고 이에 기반이 된 연구 – 는 농업에서 아동 농업을 포함 시킬 수 있도록 내용이 확장되었다는 것이다.

이는 IPCC 워킹 그룹 보고서를 비난하는 것이 아니라, 우리 조직에게 아동 노동이, 특히 농업에서 아동 노동이 2022년 9월 IPCC 6차 평가 최종 종합 보고서에 통합되며 정부의 기후 행동 계획의 일 부분이 된다는 신호를 주고 있다는 것이다.

2021년 7월 8일 하셈 식품 공장 화재 사고 당시 사망했을 때 무하마드 하스나인은 11살 이었다. 그는 화재 참사로 목숨을 잃은 52명 노동자 중 아동 사망자 19명 가운데 한 명 이었다. 하스나인은 기후 변화로 심각하게 피해를 입은 볼라 섬 차르 파손의 그의 마을로부터 방글라데시 수도 다카 외곽의 나라양간지로 이주했다. 아동의 사망 소식을 전하러 그의 집에 방문했을 때, IUF는 농업 노동자인 그의 아버지는 심각한 질환으로 일을 할 수 없는 상태라는 것을 알게 되었다

볼라 섬의 홍수, 강의 침식, 해안가 침식, 심각한 이상 기후는 지역의 삶 특히 소농과 소어민의 삶 상실의 원인이 되었다. 2021년 7월 8일 하셈 식품 공장 화재 참사로 사망한 19명의 아동 대부분은 볼라섬 출신이다.

농업에서 기후 변화와 아동 노동의 관계를 반드시 다루어야 하는 몇 가지 측면이 있다. 예를 들어, 기후 변화로 인한 이주가 아동 노동에서 아동에 대한 착취의 취약성을 심화시키고 있다. 몇몇 국가에서 우리는 해수면 상승과 극심한 이상 기온 사건으로 인한 이주가 아동 노동을 증가시키는 인자임을 확인할 수 있었다. 2021년 7월 8일 방글라데시의 하쉠(Hashem) 푸드 사업장의 화재 사고로 19명의 아동 대부분이 사망하였는데, 이들은 기후 변화로 심각한 영향을 받았던 볼라 섬 출신임을 우리는 다시 한 번 상기해야 한다. 이러한 아동들은 구인 중개업자의 소개로 자신들의 집에서 190km나 떨어진 방글라데시 수도 다카 외곽의 나라양간지 지역의 공장에서 일할 만큼 취약한 상황이었다. 왜냐하면 홍수, 강의 침식, 해안가 침식, 볼라 섬의 극심한 기상 상황에서 기인한 심각한 빈곤에 시달리고 삶의 터전을 잃어 버렸기 때문이다.[4]

심지어 심각한 기상 이변의 사건이 없었다고 하더라도, 계속해서 중첩된 기상 관련 사건들은 가뭄과 홍수로 이어져 사람들이 자신들이 거주하던 땅을 포기하도록 만들게 된다. 농어촌 지역에서 과거에는 가족 농업에 있어 농업 활동에 손을 보탰던 아이들이 부모를 따라 이주 노동자 혹은 직접 고용된 노동자로서 임금 노동에 종사하는 사례가 늘어나고 있다.

보다 관심을 기울여야 하는 농업에서 기후 변화와 아동 노동의 상관 관계에 있어 또 다른 측면은 상승하는 지표면 온도, 열 스트레스(heat stress), 위험한 일의 상호 관련성이다. 우리는 기후 변화가 농업에서 아동 노동을 근절하기 위한 우리의 노력과 어떻게 관련 되어 있는지 잘 이해할 수 있도록 이 문제를 보다 면밀히 검토해 줄 것을 제안한바 있다.

 

  1. 농업 노동에서 열 스트레스, 건강, 위험한 업무

수십 년간, 극심한 열 및 열 스트레스 노출과 관련된 위험성이 농업 노동자와 플렌테이션 노동자의 건강과 안전한 노동권을 위해 노동자를 조직, 교육, 권리 신장 시키는데 있어 중요한 이슈가 되어 왔다. 이는 안전과 건강을 위한 농업 협약, 2001 (No. 184) 안전과 건강을 위한 농업 권고안, 2001 (No.192), 또한 2011년의  농업에서 안전과 건강에 관한 실행 지침을 마련하고 이를 채택하는데 직접적으로 기여하였다.

2021년 우리는 농업에서 아동 노동을 근절하기 위한 통합적 접근법은 농약 사용의 감소 및 농업 노동자의 건강과 안전을 지키기 위한 개선된 보호 방안과 더불어 진행되어야 한다는 점을 제안했다.[5] 이러한 접근법의 핵심은 대단히 위험하지만 안전하게 사용되고 있지 않은 농약인 파라크(paraquat)와 글리포세이트액제 (glyphosate)의 사용을 금하는 것과 이러한 농약이 노동자의 건강과 환경에 미치는 구체적인 위험성에 따라서 농약의 사용을 줄이거나 제한할 수 있도록 하는 것이다. 이러한 맥락에서 협약 No.184, 권고안 No.192, 실행 지침은 국내적, 지역적 차원에서 정책과 실천을 위한 중요한 기반을 제공하고 있다.[6]

권고안 No.192와 실행 지침은 구체적으로 뜨거운 환경과 열 스트레스 상황에서 일하는 문제를 다루고 있다. 실행 지침의 17장은 열에 대한 노출과 열 스트레스의 정의를 포함해 날씨와 환경과 관련된 위험 내용을 제시하고 있다.[7]

스트레스(Heat stress) 열사병, 일사병, 실신(기절), 열경련, 열발진과 관련이 있다.

또한 탈수가 건강에 미치는 영향은 실행 지침에 아래에 같이 기술되어 있다.

17.2.1.2 탈수는 농업 노동자에게 중요한 문제이며 동시에 치명적인 문제이다. 탈수 초기 단계에서는 정상적인 수준 이하의 발한, 기절, 현기증, 어지러움, 두통, 열발진, 짜증, 조정 능력 상실, 근육 경련, 피로와 같은 증상이 나타난다. 그러나 심각한 탈수 증상은 치명적이며 무갈증과 같은 다른 증상이 발현할 시에는 즉시 의료적 행위를 취해야만 한다.

실행 지침은 그늘진 휴식 공간에서 적절한 휴식 주기와 같은 조치를 확인하고, 노동자가 쉽게 접근할 수 있도록 “고용주는 충분한 양의 깨끗한 식수를 제공해야 한다.”라고 밝히고 있다. 권고안 No.192 의 패러그래프 10 (a) 는 “안전한 식수를 적절하게 공급하는” 고용주의 의무를 규정하고 있다. 실행 지침은 또한 일의 속도를 변경하고 열에 대한 노출이나 열 스트레스의 위험을 줄이는 필요성을 강조하고 있다.

탈수에 관한 이러한 심각한 영향과 음용할 수 있는 식수의 권리가 인지되었음에도 불구하고, 플렌테이션과 농장 노동자들은 계속해서 안전하고 충분한 식수를 위한 권리를 위해 싸우고 있다. 2015년 세계 물의 날에 IUF는 이 문제를 부각시키기 위해 만약 물이 생명이라면… 왜 농업 노동자는 매년 마실 수 있는 물에 접근을 충분히 하지 못해 죽어가는가? 라는 내용을 발표한 바 있다. 한가지 예로서, 인도 마하라슈트라 주, 콜라푸르 지역의 사탕수수 수확 노동자는 가축이 마시는 물과 같은 물을 마시고 있다.[8]

인도 아삼주에서는 차 농장의 여성 노동자들이 농장의 주택과 작업 현장에서 마실 수 있는 충분한 양의 식수를 요구하기 위해 식수 및 위생 위원회를 조직했다. 지난 6년 동안, 여성들의 요구에 반하는 관리직과 결탁한 남성 중심 노조의 방해에도 불구하고 몇몇 여성 위원회가 구성되었다. 관리직과 남성 노조의 위협과 괴롭힘 속에서 여성 차 노동자들은 현재 플렌테이션 현장에서 양질의 일자리 관련해 가장 중요한 이슈 중 하나인 깨끗한 식수를 확보하기 위한 싸움의 수위를 높여 왔다.[9]

심지어 물이 있더라도, 그 물은 종종 깨끗하지 않거나 농약에 오염된 경우가 많았다. 필리핀 민다나오의 바나나 농장에서는 사전 공지없이 진행된 살균제 항공 살포로 인해 고용주가 제공하는 물이 오염이 됐을 것이라는 우려가 증가 했었으며, 이런 상황에서 노동자들은 식수를 구하기 위해 인근 민가로 가야만 했다. 권고안 No.192 패러그래프 7 (b)는 특히 “식량, 식수, 청소 및 관계 용수의 오염 예방 조치”를 포함한 화학 약품의 올바른 관리를 요구하고 있다.

아시아 태평양 지역의 대부분 국가에서 농업 노동자 노조의 노조원들은 농장과 플렌테이션에서 농약 오염은 일상적인 것이라고 증언하고 있다.[10]  점점 더 농업 노동자와 가족들은 오염된 식수원으로 알려진 혹은 의심되는 물을 마시기를 꺼리고 있는 상황이다. 그 결과 아동을 포함한 농업 노동자들은 이러한 식수원 음용을 피하게 되고 이로 인한 탈수증으로 질병 감염의 위험이 높아지는 상황에 이르게 되었다. 기후 변화로 수자원을 확보하는 것이 더 어려워지고 지표면 온도가 상승함에 따라, 오염된 물과 안전한 물의 공급이 줄어드는 문제는 또 다른 건강의 위험 요인이 되고 있다.

깨끗한 식수에 대한 접근은 탈수를 방지하고 열 스트레스와 관련되 위험을 낮추는 데 있어 매우 필요한 몇몇 조치 중 하나이다. 이는 단순히 시급한, 단기적인 열사병 또는 일사병을 완화 시키는 문제가 아니라, 질병과 부상으로 이어질 수 있는 매우 심각하고 장기적인 우려 사항이라 할 수 있다. IUF가 2014년 11월 7일 물과 식품 안전에 관한 식품 안전 및 영양 고위급 전문가 패널 (HLPE) 협의에 제출한 내용은 “중미의 사탕수수 노동자에 영향을 미치는 유행성 만성 신부전은 열 스트레스 및 탈수와 관련이 있다.”[11]고 밝히고 있다.

파키스탄의 신드, 샤다푸르의 생하르 지역의 소작인으로서 부모와 함께 농사를 짓고 있는 아동들. 당시 기온은 섭씨 45도 였으며, 성인, 아동 모두 마실 수 있는 물에 접근할 수 없는 상황이었다. 그러나 아동은 탈수의 영향을 받을 가능성이 더 크며, 열 스트레스에 더 심하게 시달릴 수 있다.

농어촌 지역의 기후 변화, 열 스트레스, 유행성 만성 신부전(CKD)의 관계에 대한 2016년 연구는 중미, 남미, 남아시아에서의 이러한 연관성에 대한 중요한 견해를 제시하고 있다.[12]  열 스트레스로 인한 급성 신부전(AKI), 만성 신부전, 탈수 사이의 관계가 확인된 이후로 북미와 중미의 농업 노동자에 대한 몇몇 새로운 연구가 진행되었으며, 연구는 거주 주택의 무더운 환경으로 인해 농업 노동자에게 탈수가 발생하기 시작했다는 점을 지적하고 있다.[13]  노동자들은 뜨거운 태양 아래서 육체적 노동을 행한 이후 또는 일이 끝난 무렵에만 (가능하다면) 물을 마시는 경향이 있으며, 이는 급성 신부전과 만성 신부전의 위험을 높일 수도 있다.

이러한 장단기적 건강 위험 요인은 상승하는 지표면 온도, 보다 자주 발생하는 극심한 열 관련 사고, 기후 변화로 인해 증가하는 물 부족 등이 결합해 발생한 결과이다. 기후 변화에 대해 확실하게 대처하지 않는다면, 열사병, 탈수, 일사병, 열 스트레스 등이 증가할 것으로 예측되며, 이는 유행성 만성 신부전을 포함해 심각한 질환으로 이어지게 될 것이다.[14]

또한 이러한 플렌테이션, 농장, 농지에서 아동 노동이 존재하기 때문에, 그리고 몇몇 국가에서 코로나 펜더믹의 결과로 아동 노동이 증가하고 있기 때문에, 우리는 또한 이와 같은 농업 활동에 참여하는 아동의 건강과 관련해 열 스트레스의 영향을 파악해야만 한다.

  1. 기후 변화, 스트레스와 아동 건강

IPCC 6차 평가 워킹 그룹 II의 보고서인, 기후 변화 2022: 영향, 적응, 취약성은 극심한 열, 열 스트레스, 열사병에 대한 노출은 아동의 건강과 웰빙에 심각한 영향을 미칠 수 있다는 점을 지적하는 몇몇 연구를 이끌어 냈다. 이 보고서는 다음의 내용으로 요약할 수 있다.

  • 성인과 비교했을 , 아동이 자신의 체중 대비 많은 양의 공기, 식품, 물을 흡입하고 종종 아동의 미성숙한 생리 기능과 신진대사 상태를 고려해 , 아동은 종종 기후 위험에 대한 노출 민감하게 반응하는 독특한 패턴을 가지고 있다.
  • 기후 변화는 저소득 국가 아동의 영양실조 및 아동기의 전염성 질환 관련 위험을 높일 것으로 예측된다. 왜냐하면 기후 변화가 가정에서의 식량 확보, 먹거리 다양성, 영양의 질, 물, 어머니의 건강과 양육 서비스 접근에 변화, 모유 수유에 영향을 미치게 되기 때문이다.
  • 열악한 위생 환경에 거주하는 아동은 특히 위장 질환에 취약하며, 향후에는 다양한 기후 변화 시나리오 속에서 이러한 아동의 설사 질환율이 증가할 것으로 예측된다.
  • 아동이 즐길 수 있는 야외에서의 오락 활동의 기회가 극심한 기상 사건, , 열악한 공기 질로 인해 줄어 수도 있다.
  • 아동과 청소년은 특히 심각한 기상 사건 이후 외상 스트레스에 취약하며, 이는 자신의 성인기 기능적 요인에 미치는 영향을 포함해 오랜 기간 동안 영향을 미칠 있다.

이러한 관찰 내용은 기후 변화와 아동 건강에 대한 환영할 만한 관심을 불러 일으키고 있다. 그러나 기후 변화가 어떻게 아동의 건강에 구체적으로 영향을 미치는지 우리의 이해를 높여야 할 시급한 필요성이 존재한다. 아동은 IPCC의 보고서를 포함한 대부분의 연구에서 다른 취약한 그룹과 함께 무리 지어 취급되는 경향이 있다. 기후 변화와 아동의 건강에 관한 광범위한 연구 검토는 “기후 변화와 아동 건강에 대해 상당 부분 중요점을 놓치고 많은 연구에서 아동을 분석의 하위 그룹으로만 포함시키고 있다.” [15]라고 지적하고 있다. 이러한 결과와 다른 내용의 부족으로 인해 우리는 심각한 지식의 격차에 직면하고 있다. 연구 검토는 다음과 같이 결론을 맺고 있다.

학문 전반에 걸친 혁신적인 연구 노력의 활성화는 유엔 지속가능한 개발 목표의 핵심인 기후 변화와 아동 건강과 관련된 이러한 격차를 좁히는데 있어 매우 중요하다. 여전히 현재와 미래 세대의 아동, 특히 이미 취약한 아동은 기후 변화로 인한 용인할 없이 높은 수준의 질병에 대한 부담을 지고 있으며 앞으로도 계속해서 지게 것이다.[16]

아동, 아동 인권 단체, 커뮤니티 조직, 노조의 개입은 이러한 혁신적인 연구 노력의 중요한 부분이 되어야 한다. 예를 들어 지역 커뮤니티의 이야기와 일화적 증거는 노조와 커뮤니티 조직을 통해 구체화되어 이런 연구에 보다 많은 관심을 불어 넣어줄 수 있어야 하며, 이런 연구를 통해 정책 결정에 영향을 미칠 수 있어야 한다.

기온 상승과 농업 노동자 사이의 열 스트레스 이슈로 돌아와서 우리는 잠재적인 기후 변화 영향의 예로서 농업 노동에 참여하는 아동이 맞닥뜨린 위험이 무엇인지 확인할 수 있다.

파키스탄 카이베르 파크툰크와주 마르단시 담배 농장의 아동 노동. 농민들은 아동은 단순하고 안전한 일만 하고 있으며 위험한 일에서는 배제되고 있다고 주장한다. 그러나 5월말부터 8월초에 걸쳐 기온이 섭씨 40도를 넘고 습도는 7월에 39% 8월에 49%에 이른다. 기온 상승과 비산되는 농약에 대한 아동의 노출 간의 상호 연관성에 대한 추가 조사가 필요하다.

고메스(Gomes), 카르네로 주니어(Carneiro-Junior), 마린스(Marins)의 잘 알려진 2013년 연구에 따르면, 아동은 열사병과 탈수에 더 취약한 것으로 나타났다. 이는 땀샘이 아직 덜 발달했고 (땀을 배출해 몸을 식히는 능력 부족), 체중 대비 신체 면적 비율이 높기 때문이며, 이는 아동이 뜨거운 기후에서 성인처럼 효과적으로 열을 발산할 수 없다는 의미이다. 아동은 같은 형태의 일을 수행할 때 비율적으로 성인보다 더 많은 열(심부체온)을 배출한다.[17]  2013년 연구에서도 언급된 적이 있지만, 2018년 FAO가 발간한 농업 노동에서 열 관리에 관한 워킹 페이퍼는 아동이 무더운 환경에서 열 관련 질환에 걸릴 위험성이 높을 수 있다는 결론을 맺고 있다.[18]

몇몇 연구에서 아동은 그늘진 공간에서 보다 많은 휴식을 취하고 성인보다 물을 더 마실 것을 권하고 있는데, 이는 휴식을 취할 수 있고, 안전한 식수에 충분하게 접근할 수 있는 상황을 가정하여 권고하는 것이다. 앞에서도 설명한 대로, 농업 노동자는 종종 마실 수 있는 물에 대한 접근성이 부족하며 아동도 같은 상황에 놓여 있다고 할 수 있다. 아래에서 설명하겠지만, 작업 스케줄과 노동 관행 또한 성인과 아동 노동자를 속박하며 이들이 탈수를 막기 위해 필요한 행위를 취하는 것을 막고 있다.

10년 그 이상 전의 ILO 보고서인 ‘위험한 노동에 종사하는 아동: 우리가 아는 것, 알아야 하는 것’은 아동이 태양 빛과 극심한 기상 조건에 노출되는 노동에 참여하는 위험에 직면하고 있다는 점을 지적하고 있다. 이 보고서는 대부분의 아동이 참여하는 야외 노동의 형태는 위험한 것으로 간주된다는 말로 결론을 짓고 있다. [19]  그러나 이는 주로 일반적으로 벽돌 가마, 건설, 야외 활동과 같은 위험한 일에 종사하는 아동에게서 관찰된다. 이 보고서는 농업과 관련된 노동은 구체적으로 다루지 않고 있다.

가장 최근에 농업 활동에 참여하는 아동의 열 스트레스와 탈수에 관한 연구가 있었다. 한 가지 중요한 사례는 북 캐롤라이나의 라틴계(Latinx) 아동 농장 노동자의 열 관련 질환에 관한 연구로서 농장에서 일하는 아동들과 방대한 인터뷰를 진행한 것이다.[20]  농장 노동자와 함께 하는 학생 행동과 커뮤니티 조직자들이 수행한 이 연구는 기후 변화와 아동의 건강 특히 아동 노동 간의 관계를 파악하고 이해하는데 필요한 혁신적인 연구 노력의 좋은 예라고 할 수 있다.

방글라데시, 파이드푸르시의 밭에서 양파를 심는 성인 노동자와 함께 일하는 아동들. 당시 기온이 섭씨 35-39도였으며 야간 체감 온도는 27도, 습도는 57%에 근접했다

위에서 설명한 것처럼, 농업 노동자들은 거주 환경으로 인해 탈수된 상태로 작업 현장에 도착하는 것이 일반적이다. 우리는 농업에서 아동 노동 관련한 열 스트레스의 영향을 평가할 때, 이런 점을 고려할 필요가 있다. 아동이 상승하는 온도와 심각한 열 사건들로 인해 무더운 집에서 거주하고 있을 때, 이들은 농장에 도착하기도 전에 이미 탈수와 열 관련 증상에 시달리게 된다. 여기에 덧붙여 높은 기온의 현장에서 작업하는 것도 영향을 미치게 된다. 이러한 모든 것은 열 스트레스의 위험을 평가할 때 고려해야 하는 누적 효과라고 할 수 있다.

우리는 지금 “우리가 알고 있는 것, 알아야 하는 것”에 대한 지식을 확인하고, 농업에서 아동의 열 스트레스 위험을 다루기 위한 교육, 정책, 법, 규제가 포함된 포괄적인 행동 계획을 마련하는데 있어 더 나은 입장에 있다고 할 수 있다.

  1. 기후 변화와 안전한 노동 시간의 감소

농업에서 기후 변화의 영향은 안전한 노동 시간 혹은 근무 가능 일수의 감소와 관련이 있다. 심각한 열과 태양 빛에 노출되는 것뿐만 아니라 기타 극심한 기상 사건들로 인해, 플렌테이션과 농장에서 근무하는 농업 노동자와 이주 노동자의 노동 시간이 더 짧아지고 있다. 노동자들은 한 낮의 뜨거운 시간을 피하기 위해 아침 일찍 일을 시작하고 밤 늦게 일을 끝내고 있다. 열사병과 열 관련 증상의 위험을 낮추기 위한 노동 시간의 변화는 종종 기후 적응 전략으로 묘사되곤 한다. 그러나 아시아 태평양 지역 몇몇 국가의 이주 노동자들은 자신들은 극심한 더위를 피하기 위해 아침 일찍 또는 밤 늦게 일할 수 없다고 말하고 있다. 이들은 이미 자신들이 할 수 있는 변화의 한계에 직면하고 있다.

이러한 내용은 열 스트레스, 농업 노동자, 기후 변화의 농작물 영향에 대한 최근 연구에서 지지를 받고 있다. 이 연구는 많은 경우에 노동자와 생계형 농민들은 자신들이 적응할 수 있는 능력의 한계치에 이미 도달했다는 점을 제시하고 있다.[21]

건강과 기후 변화에 관한 란셋 카운트다운(Lancet Countdown) 2021 보고서:  건강한 미래를 위한 코드레드(code red) 는 극심한 열의 노출로 인한 노동 시간 감소의 결과를 경고하고 있다.

중저 인간개발지표(HDI)를 가진 국가에서 농업 노동자는 끔찍한 기온에 노출됨으로서 가장 영향을 많이 받는 집단이며, 2020년 무더위로 인해 2,950억 시간의 거의 절반에 해당하는 잠재적인 노동 시간 감소를 떠안아야 하는 사람들이다. 이러한 노동 시간의 손실은 이미 취약한 노동자들에게 더 끔찍한 경제적 결과를 가져오게 될 것이다. .[22]

이 보고서는 낮은 인간개발지표 국가에서 극심한 열로 인한 모든 잠재적 노동 시간 손실의 79%는 2020년 농업 부분에서 발생했다는 점을 주목하고, 이는 노동 시간 관련 열 노출의 영향이 또한 식량 생산에 영향을 미칠 수 있고 나아가 사람의 건강에 부정적인 영향으로 이어질 수 있다는 우려를 불러 일으키고 있다.

2021년 12월 발표된 최근 연구는 열대 우림 벌목과 기후 변화의 영향 및 이 상황이 열 관련 질환, 근무 중 상해, (다양한 원인에 의한) 사망률의 심각한 발생 사례에 어떻게 기인하는지를 고찰하고 있다. [23] 벌목, 기온 상승, 열 스트레스, 근무 가능 일수의 감소 사이의 연관성은 우리가 이해할 필요가 있는 다양한 상호 연관된 이슈에 대해 가치 있는 견해를 제시하고 있다. 이 연구는 다음과 같이 결론을 맺고 있다.

종합하면, 이러한 결과는 긴급한 조치의 필요성을 강조하고 있다. 왜냐하면 특히 노인, 어린 아동, 만성 질환자들의 열 노출과 사망 위험 증가로 인해 건강이 악화되는 결과가 나타나고 있으며, 이는 별 일이 없었으면 건강했을 노동자의 생산성이 떨어져 가정과 커뮤니티 웰빙에도 영향을 미치기 때문이다.

이 연구의 결과는 또한 열 스트레스로 인해 높은 습도와 고온 때문에 건강에 영향을 받는 농업 노동자와 이주 농민들이 안전한 근무 시간과 생산성 모두에서 감소를 보인다는 우리의 정보를 확인시켜 주고 있다. 이는 얼마 안돼는 안전한 근무 시간 동안 이들이 (떨어진 생산성을 보충하기 위해) 노동의 집약도를 높여야 하며, 이로 인해 과도한 노동, 탈진, 탈수에 이르게 된다는 것을 의미한다.

농업 노동자, 플렌테이션 노동자, 이주 농민의 노조 또한 시원한 온도에서 밤늦게 일하는 것이 열 스트레스의 위험을 낮추는 “안전한 근무 시간”이 되기는 하지만 다른 위험이 증가한다는 의미임을 지적했다. 새벽이나 해질녘에 일을 하고 어두운 시간에 현장이나 농장으로 출근 또는 퇴근 하는 것은 신체 손상의 위험을 증가시킨다. 더욱 중요한 것은, 말라리아나 뎅기열 같이 모기가 유발하는 질병에 노출될 위험성이 크다는 점이다. 분명히 이는 이전의 IPCC 5차 평가 워킹 그룹 II, 기후 변화 2014: 영향, 적응, 취약성에서 언급한 산업 보건 우려 사항 중 하나이다.[24]

매개체 감염 질환에 대한 기후 변화의 영향과 농업에 종사하는 아동의 위험 노출에 대해 보다 많은 관심을 기울일 필요가 있다. 만약 아동이 또한 열 스트레스를 피하기 위해 새벽이나 해질녘에 일을 하면, 이들은 말라리아나 뎅기열 같은 매개체 감염 질환에 걸릴 높은 위험에 직면하게 된다. 아동기 말라리아 감염은 장기간에 걸쳐 건강에 심각한 위험을 초래하게 된다는 점을 고려했을 때, 이는 보다 관심을 기울일 필요가 있는 기후 변화가 가져 오는 건강에 대한 영향 중 하나이다.[25]

농업 노동자의 적응 능력에 대한 제약은 단순히 신체적인 부분에 그치는 것이 아니다. 만약 노동자들이 자신들의 근무 조건을 어느 정도 또한 전혀 통제하지 못한다면 열 관련 질환 예방 조치에 관한 인식이 있더라도 이 인식이 안전한 근무 형태로 나타나지 않을 것이다.

사회적 보호와 보장된 생활 임금이 부재한 경우에, 성과급에 의존하는 노동자는 안전하게 작업을 할 수 있는 시간에 더 열심히 일을 해야 한다. 일사병이나 열사병을 경험한 노동자의 작업 속도가 느려진다는 지침이나 의료적 조언과는 상반되게, 생산성이 감소함에 따라 노동자는 일의 목표나 할당량을 맞추기 위해 속도나 강도를 높여야 한다. 열 스트레스 위험성에 대한 교육이나 인식을 아무리 강화해도 이러한 것을 바꿀 수는 없다. 우리 지역의 팜오일, 사탕수수, 차, 바나나 농장에서 일하는 노동자들은 모두 같은 주장을 하고 있다. 노동자들은 목표나 할당량을 맞추기 위해 극심한 열 속에서 일을 해야만 한다. 느린 노동의 속도나 휴식 시간은 목표를 맞추지 못하는 것을 의미하며 이는 수입 감소로 이어진다.

파키스탄 신드 지역의 여성 소작인들은 신드 나리 포르야트(Sindh Nari Porhyat)라는 여성 노조의 조합원들로서, 이들은 탈수, 열사병, 일사병이 건강에 미치는 영향을 잘 알고 있다. 여성 노동자들은 또한 하루에 가장 더운 시간을 피하기 위해 자신들의 노동 시간을 조정했다. 그러나 이들의 노동의 속도나 강도는 고정된 임금이 아닌 작물의 할당량에 의해 결정된다. 느리게 일한 다는 것은 수입이 줄어들고 가난으로 빠지게 된다는 것을 의미한다.

우리가 이전에 말했던 것처럼 성과급 시스템은 농업에서 아동 노동을 만들어 내는 주요 원인 중 하나이다.[26]

이는 농업에서 아동 노동이 발생하는 또 다른 원인인 가족의 빚으로 이어진다. 기후 변화, 사회적 보호 조치의 부족, 농어촌 지역의 적절한 공공 의료 접근의 부재는 가족 구성원의 심각하고 장기간에 걸친 질환을 증가시키고, 이는 가족의 빚 증가로 이어질 가능성이 크다. 동남아시아와 남 아시아 플렌테이션과 농장에서 일하는 모든 우리 노조원들의 가족 구성원들은 심각하고 장기간에 걸친 질환에 시달리고 있으며, 이는 종종 가계 빚의 첫번째 원인이 되고 있다.

플렌테이션 노동자에게 있어서 이는 종종 회사로부터 돈을 빌리고 자신의 월급 삭감을 통해 빚을 되갚아야 한다는 것을 의미한다. 필리핀 민다나오의 몇몇 바나나 플렌테이션에서 노동자들은 가족 건강 비용을 충당하기 위해 빚을 지고 있으며, 이 빚을 상환하는데 임금의 절반 이상이 차감 당하고 있는 상황이다. 몇몇 경우에는 대출금 공제 후에 가져갈 수 있는 임금이 전혀 없게 되며, 이는 식품이나 기본적 생활을 누리기 위해 다시 돈을 빌려야 한다는 것을 의미한다.

인도 아셈주의 차 농장에서 여성 노동자들은 건강 비용과 기본적인 식품 구매를 위해 가불을 받기 때문에 임금이 감소하는 유사한 상황을 맞고 있다. 이러한 임금 감소는 부모의 빚을 상속받아 회사에 계속해서 돈을 되갚아 나가야 하는 경우도 포함이 된다. 기후 변화의 결과 중 한가지는 수확 시즌을 예측하는 것이 어려워 졌을 뿐만 아니라 또 수확 기간도 짧아 졌다는 것이다. 만연하는 성과급 제도 하에서, 노동자는 차를 수확했을 때만 임금을 받을 수 있다. (무급)의 농한기 기간이 늘어남에 따라 노동자들은 회사로부터 돈을 빌리거나 외상으로 식품을 구매해야 한다. 수확 기간이 짧아 진다는 것은 수입은 감소하고 빚은 늘어난다는 것을 의미한다.

기후 변화와 이주, 농업 노동과 부채의 관계는 2011년에 발간된 ‘농번기는 왜 단축되는가? 구자라트 지역에서 기후 변화가 현재 미치는 영향’에 잘 나타나 있다.

동부 구자라트 지역 및 바로다와 그 밖의 지역으로부터 해당 주의 사우라슈트라와 다른 지역으로 가족 전체가 일을 하기 위해 이주하고 있다. 일을 위한 이주 시에, 이들은 비축해 놓은 약간의 곡식을 가지고 가지만 또 이주를 위한 빚을 내야만 한다. 또한 디왈리 (인도의 등축제)를 위해 고향을 찾았던 수 천명의 이주 노동자들이 다시 일을 하기 위해 농장으로 돌아왔을 때, 사우라슈트라의 목화 농장이 피해를 입었기 때문에 결국에는 일을 찾을 수 없게 되었다. 일단 이들이 여정 끝에 일을 찾기 위해 도착을 하더라도 자신들의 노동력이 언제 필요한지 명확하게 알 수 있는 것은 아니다. 왜냐하면 언제 비가 그칠지 알 수가 없기 때문이다. 따라서 노동자들은 배회하며 기다릴 수 밖에 없으며, 이런 과정에 먹고 살기 위해 추가적인 빚을 내야 하는 상황으로 내몰린다.[27]

기후로 인한 이주가 증가하고, 물이 점점 더 귀해지고, 질병과 장기 질환이 늘어나고, 노동자와 아동이 매개체 질환에 더 노출되고, 열 스트레스와 탈수가 농업 노동자와 농민이 겪는 만성 신부전과 급성 신부전의 원인이 됨에 따라, 우리는 가계 부채가 급격이 증가하는 것을 보게 될 것이다.

2021년 9월 유엔 사무총장이 요청한 포괄적인 사회 보호 시스템과 빈곤 퇴치 조치가 부재한 상황에서 이러한 가계 부채는 계속해서 증가할 것으로 보인다. 그리고 가계 부채는 아동 노동의 주요한 발생 원인이 되고 있다.[28]

  1. 아동을 위한 위험한 일의 재정의

“위험한 일”의 정의는 최악의 형태의 아동 노동에 대한 권고안, 1999 (No.190) 에 드러나 있으며, 다음의 내용을 포함하고 있다.

3. (d) 건강하지 않은 환경에서의 노동은 예를 들어, 아동이 자신의 건강에 피해를 미치는 위험한 물질, 매개물 또는 과정, 온도, 소음 수준, 진동 등에 노출되는 상황이라 할 수 있다.

지속적으로 기온이 상승하는 환경 속에 농업 활동에 종사하는 아동은 열 스트레스, 열 관련 질환의 위험성에 놓여 있으며, 그리고 아동이 종사하는 이런 일들이 바로 위험한 일이다.  최악의 형태의 아동 노동에 대한 협약, 1999 (No. 182) 2조의 아동 노동에 관한 정의를 종합적으로 고려해볼 때, “업무가 수행되는 원래 성격이나 환경에 의해서” 18세 이하의 모든 청년에게 금지되는 일은 아동의 건강과 안전에 해를 끼칠 가능성이 높다. 기후 변화로 인해 심각한 열이 존재하는 작업 환경이 바로 안전하지 않은 업무 수행 환경에 해당한다는 주장을 할 수 있다.

직업 훈련과 더불어서 경험을 쌓기 위해 가벼운 일에 종사하는 청년 (15-17세)들이 뜨거운 태양이나 더운 환경에 노출되는 것과 관련해 새로운 과제가 등장하고 있다. 현장에서 일하고 배울 수 있는 안전한 근무 시간은 줄어드는 반면, 열 관련 질환의 위험은 증가하고 있다. 위험한 환경이 청년의 고용과 직업 훈련에 미치는 영향은 대단히 심각하며, 이들의 소득 마련과 미래 삶의 개선을 위한 능력도 약화되고 있다. 심지어 방과후에 혹은 제한된 기간에만 진행되는 12-14세 아동이 참여하는 안전한 농업 업무도 만약 기후 변화로 인해 열 스트레스와 탈수의 위험이 증가하면 위험한 일이 될 수도 있다.

이는 기온 상승과 극심한 열 관련 사건을 정책과 법적 프레임워크로 통합해 관리하고 이후 위험한 업무를 조정할 수 있도록 하는 시급한 행동을 요구하고 있다. 권고안 No.190에 따라 마련된 현재 위험한 업무 리스트 중 몇몇은 종종 산업이나 업종 내에서 업무의 형태에만 너무 초점을 두고 있으며, 이는 업무 과정이나 그 과정에 대한 본질적인 위험성 만을 확인한다는 것이다. 그러나 일이 수행되는 환경에는 환경적 조건의 변화도 포함을 시켜야 한다. 중요하게 기억해야 될 점은 4조에 따라 정부, 고용자 단체, 노동 조합의 3자 협의 과정을 구성할 수 있으며, 이를 통해 법과 규제를 마련하고, 또한 위험한 업무 목록을 작성할 수 있다는 것이다. 4조 (3)에 따라 이런 목록은 변함없이 유지되기 보다는 관련 고용주와 노동자 단체와의 주기적인 협의 속에 검토 및 수정이 이루어 져야 한다.

보다 다이내믹한 접근법이 위험한 일과 농업에 종사하는 아동에 대한 평가와 관련해 필요하다. 예를 들어, 농업에서 열 위험의 경우에 열 스트레스 위기는 업무의 기간에만 한정되는 것이 아니다. 우리는 또한 아동에 가해지는 기후가 유발한 열 스트레스의 축적된 영향도 고려해야 한다. 달리 말하면, 업무가 수행되는 환경은 일에 앞서 열 스트레스와 탈수의 축적된 영향과 극심한 열 관련 사건 이후의 영향까지도 포함을 시켜야 한다는 것이다. 이는 추가적인 조사가 필요함을 의미한다.

기후 변화에 의한 온도 상승과 극심한 열은 아동의 건강과 웰빙에 더욱 위험한 업무 형태를 만들어 냄으로써, 아동 노동 사례를 자연스럽게 증가시키게 된다는 주장으로 이어질 수 있다. 이 점에서 우리가 해야할 일은, 더운 기온과 극심한 열 관련 사건이 아동의 건강에 새로운 위험을 발생시키는 방법을 잘 이해하고, 농업 활동에 종사하는 아동의 열 스트레스 위험을 낮추기 위한 보다 효과적인 수단을 마련하고, 이런 기후 위기 속에서 가볍고 안전한 업무의 내용을 재정의 하는 것이다.

  1. 일반적인 어젠다를 향하여

IPCC 6차 평가 워킹 그룹 II의 기술 서머리 보고서 초안인 기후 변화 2022: 영향, 적응, 취약성에서는 “기후 변화에 대한 사회적, 생태적 회복력 향상”을 목적으로 하는 일련의 정책적 조치와 행동들을 요구하고 있다. 이 보고서는 다음의 내용으로 결론을 맺고 있다.

증가하는 사회적, 젠더 평등은 기후 탄력적 개발을 향한 기술적, 사회적 변화와 변모의 핵심적인 부분이 되고 있다. 사회 시스템 속에 이런 변화는 빈곤을 줄이고 정책 결정에 있어 상당한 공정과 힘을 가능하게 할 수 있다. 이런 변화는 종종 원주민, 여성, 소수 인종, 아동을 포함한 사회적 약자 그룹의 삶, 우선순위, 생존을 보호하기 위한 권리 기반 접근법을 요구하고 있다. 

기후 변화와 기후 탄력적 개발에 대한 사회적, 생태적 회복력을 동반한 인권 기반 접근법으로의 이러한 수렴을 우리는 일반적 어젠다라고 정의할 수 있다. 우리는 아동 노동, 특히 농업에서 아동 노동의 철폐를 정부간 기구와 개별 정부의 기후 행동 계획에 포함시켜야 하며, 동시에 기후 탄력성을 아동 노동 철폐를 위한 행동 계획에 포함시켜야 한다.

명백한 것은, 기후 변화와 아동 노동이라는 두가지 위기의 복잡한 상호 교차성을 우리가 여전히 이해하지 못하고 있다는 것이다. 이러한 지식의 간극을 메우는 것이 중요하다. 그러나 바로 이것이 위기이다. 정치적 용어로 위기는 “어렵거나 중요한 결정이 내려지는 시기”를 의미한다. 의학적 용어로 위기는 “회복과 죽음의 어느 한쪽을 지칭하는 중요한 변화가 발생하는 질병의 터닝 포인트”를 의미한다. 우리가 적절한 긴박감과 도덕적 책임감을 가지고 행동을 취할 때, 이 두가지 의미를 반드시 기억해야 한다.

참고자료

[1] 6차 평가 보고서 (AR6)는 3개 워킹 그룹 (워킹 그룹 I: 기후 변화의 물리학적 평가, 워킹 그룹 II: 기후 변화에 대한 사회-경제적, 자연적 시스템의 취약성 평가, 워킹 그룹 III: 대기에서 온실 가스 제거와 온실 가스 배출 감소를 위한 방법을 평가하는 기후 변화 경감에 초점)의 기여를 통해 2022년 완성 예정.

[2] OHCHR | 컨셉 노트: 기후 변화에 특별한 관심을 둔 아동 인권과 환경에 관한 일반 논평

[3] IPCC, 2022: 기후 변화 2022: 영향, 적응, 취약성 기후 변화에 관한 정부간 패널의 6차 평가 보고서에 대한 워킹 그룹 II의 기여  [H.-O. Pörtner, D.C. Roberts, M. Tignor, E.S. Poloczanska, K. Mintenbeck, A. Alegría, M. Craig, S. Langsdorf, S. Löschke, V. Möller, A. Okem, B. Rama (eds.)]. 캠브리지 대학 출판부. 출판 중.

[4] 사집(Sajeeb) 그룹 노동자 정의 위원회는 하셈 식품 공장 화재 참사와 아동 노동을 ILO 로드맵에 포함시킬 것을 요청 – IUF 아시아 태평양 (iufap.org)

[5] 농업에서 아동 노동 근절을 위한 종합적인 행동은 매우 위험한 농약 사용 근절과 ILO 협약 No.184의 비준을 포함시켜야 함 – IUF 아시아 태평양  (iufap.org)

[6] 농업에서 안전과 건강 협약 (No. 184)

[7]  농업에서 건강과 안전 행위에 관한 ILO 실행 지침 (2011).

[8] IUF. 만약 물이 생명이라면.. 농업 노동자들이 식수에 대한 접근이 부족해 매년 사망하는가? 제네바. 2015. 03. 22

[9]  세계 물의 날: 글로벌 브랜드 기업에 공급되는 인도 차 플렌테이션의 여성 노동자들이 물과 위생에 대한 권리를 요구 – IUF, 2018. 03. 22;  인도: 차 플렌데이션에서 식수 시설 확보를 위한 여성 물 & 위생 위원회의 싸움 – IUF, 2020. 03. 26;

[10] IUF 아시아/태평양 토지 & 자유 지역 총회, 태국 치앙마이, 2019. 11. 19-20

[11] 물과 식량 안보에 관한 물 안보 및 영양 전문가 고위급 패널 (HLPE)에 대한 IUF 제안서. 제네바, 2014. 11. 07

[12] Glaser J, Lemery J, Rajagopalan B, Diaz HF, García-Trabanino R, Taduri G, Madero M, Amarasinghe M, Abraham G, Anutrakulchai S, Jha V, Stenvinkel P, Roncal-Jimenez C, Lanaspa MA, Correa-Rotter R, Sheikh-Hamad D, Burdmann EA, Andres-Hernando A, Milagres T, Weiss I, Kanbay M, Wesseling C, Sánchez-Lozada LG, Johnson RJ. 농어촌 지역의 열 스트레스로 인한 기후 변화와 급속한 만성 신부전 확산: 열 스트레스 신장병 사례. 미국신장학회 임상 저널. 2016. 08. 08; 11(8):1472-83

[13] 참조 Mix J, Elon L, Vi Thien Mac V, Flocks J, Economos E, Tovar-Aguilar AJ, Stover Hertzberg V, McCauley LA. 플로리다 농업 노동자의 탈수 상태, 신장 기능, 신장 손상. 직업 환경 의학회 저널. 2018. 05 May. 60(5): e253-e260; Butler-Dawson J, Krisher L, Yoder H, Dally M, Sorensen C, Johnson RJ, Asensio C, Cruz A, Johnson EC, Carlton EJ, Tenney L, Asturias EJ, Newman LS. 과테말라 사탕수수 노동자의 열 스트레스와 급성 신장 손상 누적 사건 평가. 국제 직업 환경 건강 기록회. 2019. 10. 92:977–990; Moyce S, Mitchell D, Armitage T, Tancredi D, Joseph J, Schenker M. 캘리포니아 농업 노동자의 열사병, 체액량 감소, 신장 기능. 직업 환경 의학회 저널. 2017. 06. 74(6):402-409.

[14] Johnson RJ, Sánchez-Lozada LG, Newman LS, Lanaspa MA, Diaz HF, Lemery J, Rodriguez-Iturbe B, Tolan DR, Butler-Dawson J, Sato Y, Garcia G, Hernando AA, Roncal-Jimenez CA. 기후 변화와 신장. 영양과 신진대사 연보. 2019;74 Suppl 3:38-44.

[15] Helldén, D., Camilla Andersson, C., Nilsson, M., Ebi, K.L., Friberg, P., Alfvén, T. 기후 변화와 아동 건강: 주제범위 문헌고찰과 확장된 개념 프레임워크. 란셋 플래너테리 헬스(Lancet Planetary Health). 5 (3). 2021. 03, E164-E175.

[16] Helldén, D., Camilla Andersson, C., Nilsson, M., Ebi, K.L., Friberg, P., Alfvén, T. 기후 변화와 아동 건강: 주제범위 문헌고찰과 확장된 개념 프레임워크. 란셋 플래너테리 헬스 (Lancet Planetary Health). 5 (3). 2021. 03, E164-E175.

[17] Gomes, L.H.L.S., Carneiro-Junior, M.A. & Marins, J.C.B. 2013.  뜨거운 환경에서 일하는 아동의 체온 조절 반응. 레비스타 파우리스타 데 페디아트리아(Revista Paulista de Pediatria), 31(1): 104–110.

[18] Staal Wästerlund, D. 2018. 농업 노동에서 열 관리” 열 노출 통제를 통한 노동자의 안전 및 생산성 제고. 포레스트리 워킹 페이퍼(Forestry Working Paper) No. 1. 로마, FAO.

[19] 국제노동기구. 2011. 위험한 일을 하는 아동: 우리가 아는 것, 우리가 알아야 하는 것. 스위스 제네바

[20] Arnold TJ, Arcury TA, Sandberg JC, Quandt SA, Talton JW, Mora DC, Kearney GD, Chen H, Wiggins MF, Daniel SS. 북 캘리포니아의 남미계 아동 농장 노동자에게 발생하는 열 관련 질환: 혼합법 연구. 새로운 솔루션: 환경 직업 건강 정책 저널 2020, 8월; 30(2):111-126.

[21] Cicero Z de Lima et al. 농업 노동자의 열 스트레스는 기후 변화가 농작물에 미치는 영향을 악화시킴. 환경 연구 서한, 2021. Volume 16, 11월 4일.

[22] 건강과 기후 변화에 관한 2021 보고서, 란셋(Lancet). 398 (10311), 2021. 10. 30, pp.1619-1662.

[23] Nicholas H Wolff, Lucas R Vargas Zeppetello, Luke A Parsons, Ike Aggraeni, David S Battisti, Kristie L Ebi, Edward T Game, Timm Kroeger, Yuta J Masuda, June T Spector. 인도네시아 베라우에서 열 노출로 인한 모든 사망과 불안전한 작업 조건에 관한 벌목과 기후 변화의 영향. 란셋 플래너테리 헬스(Lancet Planetary Health). 2021. 12. 05,(12) E882-E892.

[24] IPCC 5차 워킹 그룹 평가 II,  기후 변화 2014: 영향, 적응, 취약성.

[25] Bennett CM, McMichael AJ. 노동자층에 미치는 기후 변화의 비 열 관련 영향. 글로벌 헬스 액션(Global Health Action). 2010;3:10.3402.

[26]  생활 임금, 공정한 작물 가격, 부채 탕감을 보장하는데 필요한 농업에서 아동 노동 근절 – IUF 아시아-태평양 (iufap.org)

[27] 델리 플랫폼(Delhi Platform), 구자라트 농업 노동 조합 (GALU)과 국제 식품 노동자 (IUF). 농번기는 단축되는가? 구자라트 지역에서 기후 변화가 현재 미치는 영향. 뉴델리, 2011.

[28]  생활 임금, 공정한 작물 가격, 부채 탕감을 보장하는데 필요한 농업에서 아동 노동 근절 – IUF 아시아-태평양 (iufap.org)