UN အတွက် ရွေးချယ်ဖို့ အချိန်တန်ပြီ၊ တရားမဝင် စစ်အစိုးရ သို့မဟုတ် ဒီမိုကရေစီ နည်းလမ်းကျသော အမျိုးသားညီညွတ်ရေးအစိုးရ? တခြားရွေးချယ်စရာ မရှိပါ၊ တရားမျှတမှုသည်သာ။ NUG ကို အခုပဲ အသိအမှတ်ပြုပါ!

UN အတွက် ရွေးချယ်ဖို့ အချိန်တန်ပြီ၊ တရားမဝင် စစ်အစိုးရ သို့မဟုတ် ဒီမိုကရေစီ နည်းလမ်းကျသော အမျိုးသားညီညွတ်ရေးအစိုးရ? တခြားရွေးချယ်စရာ မရှိပါ၊ တရားမျှတမှုသည်သာ။ NUG ကို အခုပဲ အသိအမှတ်ပြုပါ!

UN အတွက် ရွေးချယ်ဖို့ အချိန်တန်ပြီ၊ တရားမဝင် စစ်အစိုးရ သို့မဟုတ် ဒီမိုကရေစီ နည်းလမ်းကျသော အမျိုးသားညီညွတ်ရေးအစိုးရ? တခြားရွေးချယ်စရာ မရှိပါ၊ တရားမျှတမှုသည်သာ။ NUG ကို အခုပဲ အသိအမှတ်ပြုပါ!

PDF Myanmar-Myanmar democracy campaign

The UN must choose. The illegitimate military junta or the democratic National Unity Government? There is no choice. Only justice. Recognize NUG now!

The UN must choose. The illegitimate military junta or the democratic National Unity Government? There is no choice. Only justice. Recognize NUG now!

The United Nations (UN) designated September 15 as the International Day of Democracy. On this day we call for the restoration of democracy and democratic rights in Myanmar.

One year ago there was a campaign on September 15, 2021, calling on the UN to recognize the democratic National Unity Government (NUG) as the legitimate government of the people of Myanmar and to reject the illegal, bloody military State Administration Council (SAC). This call came just before an important decision of the 75th Session of the United Nations General Assembly on whether to recognize NUG or the SAC.

Despite the tremendous support of several governments around the world, the UN General Assembly failed to make a clear choice. In response, on October 26, 2021, the IUF Asia/Pacific Regional Committee expressed concern that 75th Session of the UN General Assembly had not taken a clear decision on the rejection of the military State Administration Council (SAC) and recognition of the democratic NUG, warning that:

further delay in the rejection of the SAC and recognition of the NUG will embolden the military regime and increase its military attacks on civilian populations.

Tragically this is exactly what happened. An emboldened SAC military junta escalated its brutal war on the people, with military attacks on villages and aerial bombings. Thousands more human rights defenders and trade unionists were arrested, hundreds more were sentenced to prison terms. And on July 26, 2022, the SAC military junta executed four political prisoners.

One year later, on September 15, 2022, the international community again mobilizes to call on the UN General Assembly to recognize NUG and reject SAC.

Only total political rejection of the SAC as an illegitimate, criminal military regime and full support for NUG can help end this reign of terror and provide much needed support for the courageous struggle of all the peoples of Myanmar to restore democracy.

What choice is there now for the UN? The SAC military junta or the democratic NUG? There is no choice. Only justice.

SIGN THE PETITION Myanmar for U Kyaw Moe Tun & U Kyaw Moe Tun for Myanmar

Recognize NUG now!

Download the Myanmar democracy campaign poster PDF in English 

یہ حقوق کی عدم موجودگی ہے جو اس موسمیاتی بحران کو  لوگوں کے لیے آب و ہوا کی تباہی  میں تبدیل کرتی ہے۔

یہ حقوق کی عدم موجودگی ہے جو اس موسمیاتی بحران کو لوگوں کے لیے آب و ہوا کی تباہی میں تبدیل کرتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم تباہ کن موسمیاتی تبدیلی کے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر میں گرمی کی لہریں، خشک سالی، بش فائر اور سیلاب کی شدت اور تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگست میں پاکستان بھر میں بڑے پیمانے پر سیلاب نے 30 ملین افراد کو بری طرح متاثر کیا، جن میں 1,000 سے زیادہ اموات کی اطلاع ملی۔حکومتی وزراء اور ارکان پارلیمنٹ نے سیلاب کو “موسمیاتی تباہی” قرار دیا۔ واضح طور پر حکومتوں کی طرف سے دہائیوں کے انکار، تاخیر اور ابہام کے بعد سرکاری سطح پہ ، اس سیلاب کی تباہی کی وجہ ” انسانوں کی وجہ سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلی ” کو تسلیم کیا جانا ،اہم پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے۔تاہم، شدید موسمی واقعات کی بڑھتی ہوئی شدت اور تعداد کو تباہ کن موسمیاتی تبدیلی [موسمیاتی بحران] کے ثبوت کے طور پر تسلیم کرنے، اور موسمیاتی تباہی کا اعلان کرنے میں بہت فرق ہے ۔
30 ملین سے زیادہ لوگ شدید سیلاب سے متاثر ہوئے اور لاکھوں لوگ بے گھر یا در بدر ہوئے ہیں جس کی وجہ اس بحران کا سامنا کرنے کے لیے ضروری عوامی خدمات اور سہولیات، بنیادی ڈھانچہ، رہائش اور سماجی تحفظ فراہم کرنے میں حکومت کی ناکامی ہے۔ یہ حقیقتا تحفظ کی عدم موجودگی ہے۔
اور عمومی سماجی تحفظ کی کمی ہے ۔ خاص طور پر خواتین، غیر رسمی شعبے کے کارکنوں، اور تارکین وطن کارکنوں کے لیے – جس نے اس سیلاب کو ایک المیہ میں تبدیل کردیا ہے ۔
دیہی برادریوں کے خلاف امتیاز، پسماندگی اور عدم توجہ ان ممالک میں عام ہے جہاں حکومتوں نے صحت کی دیکھ بھال، پانی کی سہولیات، اور چھوٹے ماہی گیروں اور پسماندہ کسانوں کی مدد کے لیے درکار عوامی انفراسٹرکچر پر عوامی اخراجات میں کمی کی ہے۔ان کمیونٹیز کے اندر خواتین اور مقامی لوگوں کی پسماندگی اور بھی زیادہ ہے۔ جو لوگ منظم طریقے سے حقوق سے محروم ہیں اور پسماندہ ہیں وہ انتہائی موسمی واقعات کے بدترین اثرات سے دو چار ہوتے ہیں۔ جو لوگ مناسب رہائش، صحت کی دیکھ بھال، پانی اور صفائی ستھرائی، اور غذائیت تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے پہلے سے ہی خراب صحت کا شکار ہیں، ان کے لیے انتہائی موسمی واقعات کا حملہ تباہ کن ثابت ہو سکتاہے۔ یہ حقوق کی عدم موجودگی ہے جو اس موسمیاتی بحران کو دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں کے لیے آب و ہوا کی تباہی بناتی ہے۔
تباہ کن موسمیاتی تبدیلیوں سے بچنے کے لیے فوسل فیول انڈسٹری کی طرف سے کاربن کے اخراج کو کم کرنے کی فوری ضرورت کی نشاندہی چار دہائیوں سے قبل کی گئی تھی۔ 1977 میں امریکی صدر جمی کارٹر کے چیف سائنسی مشیر فرینک پریس کے میمو کا عنوان اس سے زیادہ واضح نہیں ہو سکتا: “فوسیل CO2 کا اخراج اور ایک تباہ کن موسمیاتی تبدیلی کا امکان۔”]لیکن کاربن کے اخراج کو کم کرنے اور فوسل فیول ایندھن کی صنعت میں راج کرنے کی یہ کال تھیچر اور ریگن کے سرکاری اخراجات اور سماجی انفراسٹرکچر، عوامی اشیا اور خدمات، اور – سب سے اہم – ہماری اجتماعی سماجی اقدار پر نو لبرل حملے کی آمد کے ساتھ موافق تھی۔ جس کو دنیا بھر میں اپنایا گیا – بشمول متعدد سماجی جمہوری اور مزدور حکومتوں کے ذریعہ – نو لبرل ازم نے گزشتہ 45 سالوں میں نہ صرف حکومتوں کی کرہ ارض اور صحت عامہ کی حفاظت کی صلاحیت کو کمزور کیا ہے۔ اس نے منظم طریقے سے اس قسم کے عوامی سماجی انفراسٹرکچر کے ہمارے حقوق کو ختم کر دیا ہے جس کی ہمیں اب اشد ضرورت ہے۔ ہسپتالوں، رہائش، تعلیم، بجلی اور پانی کی سہولیات کی نجکاری کی گئی اور تقریباً ہر چیز منافع کے لیے خریدی اور بیچی جانے والی شے بن گئی۔ اس میں پینے کے صاف پانی تک رسائی شامل ہے – جوایک بنیادی انسانی حق ہے ۔

گرمی کی لہروں، جنگل کی آگ، سیلاب، خشک سالی اور دیگر شدید موسمی واقعات کی بڑھتی ہوئی شدت اور تعداد نے ہمارے بنیادی انسانی حقوق اور اجتماعی سماجی اقدار جو ان حقوق کو معنی دیتے ہیں کوبحال کرنے کے مطالبات کو نئی جان دی ہے ۔ مفت عوامی اشیا اور خدمات، افادیت، بنیادی ڈھانچے تک رسائی – عوامی طور پر مالی اعانت سے چلنے والا حقیقی اور سماجی تحفظ – وہ ہے جس کی دیہی اور زرعی برادریوں کو فوری ضرورت ہے۔ یہ خاص طور پر خواتین، بچوں، تارکین وطن اور مقامی لوگوں کے لیے ہے۔
یہ سب زیادہ اہم ہے کیونکہ یہی پسماندہ اور نظر انداز دیہی اور زرعی برادریاں دنیا کو کھانا کھلانے کے زمہ دار ہیں۔ عوامی طور پر مالی اور سماجی تحفظ اور حکومتوں کے تعاون کے بغیر، انسانوں کی طرف سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے بائث ہونے والے شدید موسمی واقعات خوراک کے مسلسل بحران پیدا کریں گے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر خوراک کے عدم تحفظ میں اضافہ ہوگا۔
بنیادی طور پر یہ ماحولیاتی بحران کے بارے میں ہمارے ردعمل کے مرکز میں سماجی انصاف کو رکھنے اور پوری دنیا کی صحت کا دفاع کرنے کے بارے میں ہے۔اسے وسیع پیمانے پر موسمیاتی انصاف کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ ہمیں 2008 میں صحت کے سماجی تعین کرنے والے ڈبلیو ایچ او کمیشن کی حتمی بنیادی طور پر یہ ماحولیاتی بحران کے بارے میں ہمارے ردعمل کے مرکز میں سماجی انصاف کو رکھنے اور پوری دنیا کی صحت کا دفاع کرنے کے بارے میں ہے۔اسے وسیع پیمانے پر موسمیاتی انصاف کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ ہمیں 2008 میں صحت کے سماجی تعین کرنے والے ڈبلیو ایچ او کمیشن کی حتمی رپورٹ کی ابتدائی سطر کو یاد کرنا چاہئے: “سماجی انصاف زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔”اس میں کوئی شک نہیں ، اس موسمیاتی بحران میں، موسمیاتی انصاف زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔

اس موسمیاتی بحران میں انسانی حقوق کی اہمیت کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی انسانی حقوق اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق قرارداد میں تسلیم کیا گیا ہے [14 جولائی 2021]:
موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے خطرناک حالات میں لوگوں کو درپیش خاص چیلنجوں پر زور دینا، بشمول بیماریوں کے لیے ان کی بڑھتی ہوئی حساسیت، گرمی کا دباؤ، پانی کی کمی، نقل و حرکت میں کمی، سماجی امتیاز اور جسمانی، جذباتی اور مالی لچک میں کمی، نیز ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو ان کی مخصوص ضروریات کو پورا کرتاہو اور ہنگامی حالات اور انخلاء، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہنگامی ردعمل، اور صحت کی دیکھ بھال کی خدمات، جیسا کہ مناسب ہو، ڈیزاسٹر رسپانس پلاننگ میں ان کی شرکت کو یقینی بنانا،
مزید ریاستوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کمزور حالات میں لوگوں کے انسانی حقوق کو بہتر طور پر فروغ دیں اور ان کی روزی روٹی، خوراک اور غذائیت، پینے کے صاف پانی اور صفائی، سماجی تحفظ، صحت کی دیکھ بھال کی خدمات اور ادویات، تعلیم و تربیت، مناسب رہائش صاف توانائی، سائنس اور ٹیکنالوجی اور مناسب کام تک رسائی کو یقینی بنائیں ۔ اور یقینی بنائیں کہ خدمات کو ہنگامی اور انسانی حالات کے مطابق ڈھال لیا جا سکتا ہے۔

Fishworkers in the Philippines demand recognition of their constitutional right to organize, denounce fishing industry’s fraudulent voluntary code

Fishworkers in the Philippines demand recognition of their constitutional right to organize, denounce fishing industry’s fraudulent voluntary code

As a counter-summit to the official Tuna Congress in General Santos City in the Philippines, SENTRO held its 4th National Fishworkers Congress September 2-3, 2022. Hundreds of fisherfolks, commercial fishers and canning factory workers attending the Fishworkers Congress angrily denounced the new Voluntary Code of Good Practices signed by the SOCSKSARGEN Federation of Fishing and Allied Industries (SAFFAI) Tripartite Council during the official Tuna Festival.

“The so-called Voluntary Code, is nothing but a PR exercise that SAFFAI is using to whitewash its horrendous record in wantonly violating the rights and welfare of its workers”, said Herbert Demos, Regional Secretary of SENTRO SOCSARGEN.

“Its promises to uphold safely and health, provide education and skills upgrading, utilize alternative dispute mechanisms, respect labor standards and use retrenchments as a last resort will have no chance of being enforced so long as the industry continues to ignore workers’ right to freedom of association.”

The fraudulent Voluntary Code claims to be tripartite but has no legitimate labour representation. It is designed to avoid the legal obligations of DO-156

The Voluntary Code was signed without properly consulting the labor sector. The labor representatives who signed the document were members of the management and their allies.

SENTRO has long been criticizing SAFFAI for actively blocking the enforcement of Department Order No.156 Rules and Regulations governing the Working and Living Conditions of Fishers on board Fishing Vessels engaged in Commercial Fishing Operation which was issued in 2016.

“8 years after the issuance of DO-156, none of our commercial fishers have enjoyed its guarantee that they get at least the minimum wage on top of their rightful share of the catch and all the labor standards are respected.”

More importantly, workers in the canning factories and those onboard commercial fishing vessels have yet to access their full trade union rights. The extensive use of contractualization, the denial of employee-employer relations and the militant anti-union attitude of employers are the key factors preventing unionization.

“We call on all those government representatives who signed the Voluntary Code to withdraw their imprimatur unless SAFFAI agrees to subject the same to meaningful consultation and takes into consideration the respect for workers’ constitutional right to self-organize, collectively bargain and to strike.”

It is the absence of social justice that turns the climate crisis into a climate catastrophe

It is the absence of social justice that turns the climate crisis into a climate catastrophe

There is no doubt that we are entering an era of catastrophic climate change. Heat waves, drought, bushfires and flooding are increasing in intensity and frequency across the globe. The massive flooding across Pakistan in August severely affected 30 million people, with over 1,000 reported deaths. Government ministers and parliamentarians described the flooding as a “climate catastrophe”. Clearly, any official recognition of this flood disaster as having its origins in human-induced climate change represents significant progress after decades of denial, delay and obfuscation by governments. However, there is an important difference between recognizing that the increased intensity and frequency of extreme weather events as proof of catastrophic climate change [the climate crisis], and declaring a climate catastrophe.

Over 30 million people were affected by severe flooding and millions remain displaced or homeless because of decades of government failure to provide the necessary public services and utilities, infrastructure, housing, and social protection needed to face this crisis. It is the absence of publicly financed physical protection (protected forests and mangroves, land and soil conservation, dykes, levees, canals, public housing and affordable housing, access to potable drinking water) and the lack of of universal social protection – especially for women, informal sector workers, and migrant workers – that has allowed this flooding to become the tragedy that it is.

The exclusion, marginalization and neglect of rural communities is common in countries where governments have cut public spending on health care, water utilities, and the public infrastructure needed to support small scale and marginal farmers and fisherfolk. Within these communities there is even greater marginalization of women and indigenous/first nation peoples. Those who are systematically denied rights and marginalized experience the worst effects of extreme weather events. Already suffering from poor health due to the lack of access to adequate housing, health care, water and sanitation, and nutrition [all of which are universal human rights], the onslaught of extreme weather events is devastating. It is the absence of rights that makes this climate crisis a climate catastrophe for hundreds of millions of people around the world.

The urgent need to cut carbon emissions by the fossil fuel industry to avert catastrophic climate change was understood more than four decades ago. [The title of the memo of US President Jimmy Carter’s chief scientific advisor, Frank Press, in 1977 could not be clearer: “Release of Fossil CO2 and the Possibility of a Catastrophic Climate Change.”] But this call to cut carbon emissions and reign in the fossil fuel industry coincided with the advent of Thatcher and Reagan’s neoliberal attack on government spending and social infrastructure, public goods and services, and – most important of all – our collective social values. Replicated around the world – including by several social democratic and labour governments – neoliberalism has over the last 45 years not only undermined the capacity of governments to protect the planet and public health. It has systematically dismantled our rights to the kinds of public social infrastructure we so desperately need now. Hospitals, housing, education, electricity and water utilities were privatized as just about everything became a commodity bought and sold for profit. This includes access to potable drinking water – a fundamental human right.

The increased intensity and frequency of heat waves, wildfires, flooding, drought and other extreme weather events have renewed calls to restore our fundamental human rights and the collective social values that give meaning to those rights. Access to free public goods and services, utilities, infrastructure – publicly financed physical and social protection – is what rural and agricultural communities urgently need. This is especially so for women, children, migrants, and indigenous/first nation peoples.

This is all the more important because these very same marginalized and neglected rural and agricultural communities must feed the world. Without publicly financed physical and social protection and the support of governments, the extreme weather events driven by human-induced climate change will generate continuous food crises, leading to even greater global food insecurity.

Fundamentally this is about placing social justice at the center of our response to the climate crisis and defending planetary health. This is broadly understood as climate justice. We should recall the opening line of the final report of the WHO Commission on Social Determinants of Health in 2008: “Social justice is a matter of life and death.” Indeed, in this climate crisis, climate justice is a matter of life and death.

Hidayat Greenfield, Regional Secretary

The IUF-affiliated Sindh Women Workers Council SNPC provides support to women who lost their homes and whose fields are flooded. This reflects the collective social values and action of solidarity, compassion and caring we must restore.

The importance of human rights in this climate crisis is recognized in the UN Human Rights Council’s resolution on Human rights and climate change [July 14, 2021]:

Stressing the particular challenges faced by people in vulnerable situations posed by climate change, including their increased susceptibility to diseases, heat stress, water scarcity, reduced mobility, social exclusion and reduced physical, emotional and financial resilience, as well as the need for measures to address their specific needs and to ensure their participation in disaster response planning for emergency situations and evacuations, humanitarian emergency response, and health-care services, as appropriate,

 

Further calls upon States to better promote the human rights of people in vulnerable situations and their access to livelihoods, food and nutrition, safe drinking water and sanitation, social protection, health-care services and medicines, education and training, adequate housing and decent work, clean energy, science and technology, and ensure services can be adapted to emergency and humanitarian contexts;

Coca-Cola Bangladesh workers resume protest despite physical threats and intimidation by the company’s gangster contractor

Coca-Cola Bangladesh workers resume protest despite physical threats and intimidation by the company’s gangster contractor

Members of the the Coca-Cola Employees Union (CCEU) continued their protest actions on July 2, 2022, in response to management’s continued refusal to negotiate good faith and attempts to exclude the company from labour law provisions. Union members are also demanding and end to the violence and threats by goons deployed by Coca-Cola Bangladesh’s 3rd party “waste management” contractor, Md. Shahidul Islam Shahid.

The peaceful protest began on June 4, 2022, but was postponed after goons of Coca-Cola Bangladesh’s 3rd party contractor, Md. Shahidul Islam Shahid, visited workers’ homes and threatened their families with violence.  The abduction and vicious beating of the  Coca-Cola Bangladesh union president on June 7 by these goons had already created a climate of fear.

The union relocated dozens of union members and their families to temporary accommodation further away from the factory for their safety. The protests in front of the Coca-Cola factory then resumed on July 2.

One of the supervisors of Coca-Cola Bangladesh’s “waste management” contractor videoed the protest to identify the workers who joined the action. The same night goons visited the workers’ homes and threatened them and their families. They also forced workers’ family members to come to the contractor’s office near the factory. They made explicit threats, telling the father of one worker:

He is your only son. He shouldn’t join this protest anymore, otherwise he’ll be in danger.

Using his influence and connections, Md. Shahidul Islam Shahid is also threatening to have landlords to evict union members and their families if the protest continues.