Poster: Secure jobs for young workers! International Youth Day 2025



























FSPM Congress
ایف ایس پی ایم نے جنوری 2023 کو ہونے والی اپنی 8ویں کانگریش میں فیصلہ کیا تھا کہ جن آٹھ علاقوں سیما رنگ،پوکیاکارتا،جکارتہ۔لامپنگ،بانڈو،سورابایالاجوان،باجو اور بالی جیاں ان کے ممبر مو جود ہیں وہاں اپنی رکنیت کو بڑھانے کے لیے سیاحتی کارکنوں کی جنرل یونین بنایں گے۔
کویڈ کے دوران سیاحت کے بحران کی وجہ سے پچھلے تین سالوں میں پورے انڈونیشیا میں اپنے 4000 ممبران کھونے کے بعد ایف ایس پی ایم نے اپنی یونین کی طاقت کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے مزید کارکنوں کو منظم کرنے کے نئے طریقے تلاس کیے۔
ایس ایس پی ایم نے ایف ایس پی ایم پری ویسٹا کو ایک نئے ڈھانچے کے طور پر تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تا کہ کھانے کی خدمات اور ہوٹل و سیاحت کی صنعت میں انفرادی کارکنوں کو اس میں شامل کیا جاے اور انہیں خراب صورتحال میں انکی حفاظت کے لیے ان کی اپنی حقیقی یونین کی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔ ایف ایس پی ایم نے فوری طور پر بڑے پیمانے پر تنظیم شازی کے لیے حکمت عملی شروع کر دی، اس سے پہلے یہ بات عام تھی کہ ایف ایس پی ایم کے پاس معلومات حاصل کرنے کے ایسے پیغامات آتے تھے جہاں کام کی جگہ یونین نہیں ھے اور وہ پوچھتے تھے کہ کیا ایف ایس پی ایم میں شامل پو سکتے ہیں لیکن اس وقت ہم ان کے لیے کچھ نہیں کر سکتے تھے، یہ بات ایف ایس پی ایم نے ۔۔جنرل سیکریٹری بھائی گلیح تری پنجالو نے بتائی

Registration of FSPM Pariwisata
۔2 مئی کو ایف بی ایم پری ورسٹا افرادی قوت کے محکمے میں رجسٹرڈ ہونے والی پہلی انفرادی بنیاد پر جنرل یونین بن گئی۔یہ 8 جنوری کو ہونے والی کانگریس کے فیصلے کا نتیجہ تھا۔
بھائی گلیح نے بتایا کہ انڈونیشیا میں مزدوروں کے لیے ٹریڈ یونین بنانا کافی مشکل ہے کیونکہ مزدوروں اور آجروں کی نظروں میں یونینوں کی بری تصویر بنتی ہے۔انڈونیشیا کے قانون کا ضابطہ جس میں کام کی جگہ پر یونین بنانے کے لیے کم از کم 10 افراد کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی بعض اوقات رکاوٹ بن جاتی ہے۔
مئی۱۵ کو نئی یونین کے قیام کے لیے میٹنگ کے دوران ایک مقامی ریستوران کے کارکن برادر محمد احسان نے کہا، “جب کارکنوں کی حیثیت سے ہمارے حقوق کو پامال کیا جاتا ہے تو یہ ہمارے لیے بہترین پلیٹ فارم ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ کارکنوں کو دفاع کرنے والے افراد کو ہونا چاہیے۔
یونین میں شامل ہونے اور اجتماعی طور پر جدوجہد کرنے کی اہمیت کی وصاحت کرتے ہوئے ایس ایس پی ایم کے آرگنائزر برادر حریف یونالڈی نے کہا: “کبھی کبھی یونین کے لیے کارکنوں کے حقوق کا تحفظ کرنا مشکل ہو جاتا ہے، ایسے کارکنوں کو چھوڑ دیں جن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ خود اپنے حقوق کا دفاع کریں گے۔

Fafin Lubis, a founding member of a general tourism workers union
جنرل ٹورازم ورکرز یونین کے بانی اجلاس میں، ریستوران کے کارکنوں نے اس شعبے میں کارکنوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر کچھ مسائل اٹھائے، جیسے کہ روزانہ کارکنوں کا استعمال، پارٹ ٹائم ورکرز کے ساتھ بدسلوکی اور بغیر معاوضہ اوور ٹائم۔ ایک بین الاقوامی ریسٹورنٹ چین کے اسسٹنٹ مینیجر برادر فافن لوبس نے ایک یونین بنا کر ایک “سازگار، ہم آہنگی اور خوشحال” کام کرنے کا ماحول بنانے کی اپنی خواہش کی وضاحت کی۔
مستقبل کے لیے منظم کرنا
ایف ایس پی پری ورسٹا کومنظم کرنا ایک طویل مدتی تنظیمی کوشش ھے، یہ پہلا قدم ہے جس کے بارے میں ایف ایس پی ایم کا خیال ہے کہ ان کارکنوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے میں اہم ہے جو یونین میں شامل ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ایف ایس پی ورسٹا ہوٹل اور ریستوراں کے کارکنوں تک محدود نہیں ہے ۔ ایف ایس پی ایم ۔ دیگر سیاحتی کاروباروں میں زیادہ کارکنوں کو نشانہ بنا رہا ہے جیسے کہ سیاحتی مقامات پر کارکنان، ٹور گائیڈز، گولف کورس کے کارکنان اور یہاں تک کہ کھانے کی ترسیل کرنے والے سوار۔ “ہم ان شعبوں سے یونین کی رکنیت بڑھانے کے لیے منظم کرنا چاہیں گے جو اس سارے عرصے میں مناسب طریقے سے منظم نہیں ہوئے،” بھائی گلیح نے اعلان کیا۔

Discussion on organizing strategies for SPM Pariwisata
تنظیم سازی کی حکمت عملیوں کی ترقی کے لحاظ سے ایف ایس پی ایم ۔ایس پی ایم پری ورسٹا ، کے اراکین کے لیے یونین کے اراکین کے طور پر ان کی صلاحیت بڑھانے کے لیے ایک تعلیمی پروگرام کا انعقاد کرے گا ۔ایس پی ایم پری ورسٹا کے اراکین کی حوصلہ افزائی کی جاے گی کہ وہ اپنے کام کی جگہوں پر بھی اپنی یونین کو منظم کریں۔
“انفرادی ممبرشپ یونینوں کی موجودگی کے ساتھ، یہ زیادہ سے زیادہ کارکنوں کو یونین میں شامل ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ لہذا، اگر کارکنوں کو کچھ ہو جاتا ہے، یا انہیں کسی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو وہ کم از کم اپنے حقوق، فلاح و بہبود اور ملازمت کے تسلسل کے لیے تحفظ حاصل کر سکتے ہیں،” بھائی گلیح نے مشاہدہ کیا۔
سال ۲۰۲۳کے او ای سی ڈی کے رہنما اصولوں ملٹی نیشنل انٹرپرائزز برائے ذمہ دار کاروباری طرز عمل کارکنوں کے انجمن سازی کی آزادی کے حق کا احترام کرنے کی کمپنیوں کی ذمہ داری کی توثیق کرتی ہے اور اس حق کا احترام کیسے کیا جاہے اس پر ایک اہم وضاحت شامل کی ہے۔
سال ۲۰۱۱ او ای سی ڈی کے رہنما اصولوں باب پنجم روزگار اور صنعتی تعلقات،:۱
الف، ملٹی نیشنل انٹرپرائز کے ذریعہ ملازمت کارکنوں کے حق کا احترام کریں کہ وہ اپنی پسند کی ٹریڈ یونینوں اور نمائندہ تنظیموں کو قائم کریں یا اس میں شامل ہوں۔
سال ۲۰۲۳ میں ہونے والی ترامیم
الف، مزدوروں کے ٹریڈ یونینوں اور اپنی پسند کی نمائندہ تنظیموں کو قائم کرنے یا اس میں شامل ہونے کے حق کا احترام کریں، بشمول مزدوروں کی اپنی پسند کی ٹریڈ یونین یا نمائندہ تنظیم قائم کرنے یا اس میں شامل ہونے کے انتخاب میں مداخلت سے گریز کرنا۔
یہ اہم ہے کیونکہ جب کہ زیادہ تر بین الاقوامی کمپنیاں کارکنوں کے اپنی پسند کی ٹریڈ یونینز قائم کرنے یا اس میں شامل ہونے کے حق کا احترام کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی قومی اور/یا مقامی انتظامیہ کو اس حق کے استعمال میں مداخلت کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔
یہ مداخلت کام کی جگہ پر انتظامیہ کی طرف سے کارروائیوں کی ایک حد کا احاطہ کرتی ہے جو کارکنوں کو یونین بنانے یا یونین میں شامل ہونے پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ انتظامیہ اکثر یہ دعوی کرتی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو صرف “مشورہ” دے رہے تھے یا ملازمین ان کے پاس مشورہ مانگنے آئے تھے۔ انتظامیہ یہ بھی دعوی کرے گی کہ انہوں نے ملازمین سے یونین کے بارے میں “صرف پوچھا”۔
“مشورہ” دینا ” یا “صرف پوچھنا” مداخلت ہے اور کارکنوں کے آزادانہ انتخاب کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ یونین میں شامل ہونے یا تشکیل دینے کا انتخاب کرنے کی آزادی کا واضح مطلب یہ ہے کہ کارکن اپنا فیصلہ انتظامیہ کے کسی بھی قسم کی مداخلت یا اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر کریں۔ انتظامیہ کو مکمل طور پر غیر جانبدار رہنا چاہیے اور کارکنوں کے انتخاب پر براہ راست یا بالواسطہ اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔ او ای سی ڈی(ٹی یو اے سی) کی ٹریڈ یونین ایڈوائزری کمیٹی کچھ ایسے اقدامات یا بیانات کی مثالیں فراہم کرتی ہے جو “کارکنوں کے ٹریڈ یونین کے قیام یا اس میں شامل ہونے کے انتخاب میں مداخلت کرتے ہیں“
۔ کارکنوں کو بتانا کہ وہ ایک “ٹیم” یا “خاندان” ہیں اور انہیں نمائندگی یا اجتماعی سودے کاری کے معاہدوں کی ضرورت نہیں ہے۔
۔ اجتماعی سودے کاری کے لیے مزدوروں کی نمائندگی کرنے والی ٹریڈ یونین کی تذلیل۔
۔ کوئی بیان دینا یا کوئی ایسا اقدام کرنا جس سے کارکن یہ سوچے کہ اگر وہ ٹریڈ یونین بناتے ہیں تو ان کا کام اور آمدنی بدل جائے گی۔
۔ یہ تاثر پیدا کرنا کہ او ای سی ڈی کے رہنما اصولوں کا اطلاق انٹرپرائز پر نہیں ہوتا، اس لیے کارکنان کو ان پر عمل درآمد کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
۔ کارکنوں کے نمائندے کے انتخاب سے انکار یا تاخیر کے لیے عدالتی اپیلوں کا استعمال۔
۔ کارکنوں کی جانب سے نمائندے کے لیے اپنی پسند کا مظاہرہ کرنے کے بعد کام کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں منتقل کرنا یا اچانک تبدیل کرنا۔
ان میں سے کوئی بھی کارروائی ممکنہ طور پراو ای سی ڈی کے رہنما اصولوں کی خلاف ورزی کا باعث بنتی ہے۔
یہ اور اسی طرح کی کارروائیاں انجمن سازی کی آزادی کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق اورآئی ایل او کنونشن نمبر 87 اور 98 کے تحت انجمن سازی کے حق کو نقصان پہنچاتی ہیں
